خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 612
خطبات طاہر جلدے 612 خطبه جمعه ۲ ستمبر ۱۹۸۸ء پس آج افریقہ کو ضرورت ہے وفاداروں کی۔آپ لوگوں کو جن کے آباؤ اجداد نے یہاں سے استفادے کئے ہیں اس قوم کا حق ادا کرنا چاہئے اور تلافی مافات اپنی گزشتہ ستیوں کی اس طرح کریں اب یہ ارادے لے کر یہاں بیٹھ جائیں کہ ہم نے ضرور اس قوم کے احسان کا بدلہ اتارنا ہے ہمیں جو صلاحیتیں خدا نے عطا فرمائی ہیں ہم نے وہ اس قوم کے لئے استعمال کرنی ہیں۔اگر آپ یہ کریں گے تو دنیا کی کوئی طاقت جماعت احمدیہ کی نشو ونما کو یہاں روک نہیں سکتی۔آپ دن دگنی رات چوگنی ترقی کریں گے۔تیزی کے ساتھ تمام سمتوں میں پھیلتے چلے جائیں گے۔کوئی حدود آپ کی ترقی کو روک نہیں سکے گی اور وہ گزشتہ سالہا سال کی نیندیں اور غفلتیں جن کے نتیجہ میں یہاں جمود دکھائی دیتا ہے اچانک جس طرح ایک زلزلہ طاری ہوتا ہے اس طرح ایک اس زلزلہ کے ساتھ آپ کی نیند کے جادوٹوٹ جائیں گے اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے ترقیات کا ایک نیا دور یہاں شروع ہو جائے گا مگر اس کے لئے مجھے نو جوان صاحب ولولہ گرم خون رکھنے والی نسلوں کی ضرورت ہے۔وہ آگے آئیں اور اپنے نام پیش کریں۔اللہ تعالیٰ ان کو تجر بہ عطا کرے گا ان سے انشاء اللہ تعالی آئندہ زمانے کی عظیم الشان قیادتیں نکلیں گی۔خدمت دین کے لئے آج ہمیں جس قسم کے نئے مخلصین کی ضرورت ہے ان کے اندر بنیادی شرط یہ ہونی چاہئے کہ ان کی دونوں ٹانگیں درست ہوں۔ایک ٹانگ پر چلنے والے احمدی ہمیں نہیں چاہئیں۔رات مجلس عاملہ کے اجلاس میں جب میں نے بعض ناموں کے متعلق پوچھا کہ اچھے مخلص سمجھدار نوجوان جن کے اوپر دین کے کام ڈالے جائیں تو وہ شوق سے کریں گے ان کے نام بتائیں۔بعض نام لئے گئے لیکن ساتھ ہی واپس لے لئے گئے یہ کہ کر یہ چندہ نہیں دیتے۔تو در حقیقت جہاد میں جو معذور لوگ ہوں ان کو اللہ تعالیٰ نے اجازت دے دی ہے کہ وہ باہر بیٹھے رہیں۔روحانی جہاد میں بھی روحانی لحاظ سے بعض لوگ معذور ہوتے ہیں یعنی وہ لوگ جن کی دونوں ٹانگیں درست نہ ہوں ایک ٹانگ بیمار ہو یا مفلوج ہو چکی ہو وہ بے چارہ جہاد میں کیسے حصہ لے سکتا ہے۔خدا تعالیٰ نے مومن کی تعریف یہ کی ہے کہ وہ اپنی جان کے ساتھ بھی جہاد کرتا ہے، اپنے مال کے ساتھ بھی جہاد کرتا ہے۔سورۃ البقرہ کی پہلی آیات ہی میں جو متقی کی تعریف فرمائی گئی ہے وہ بھی یہی ہے الَّذِينَ يُؤْمِنُوْنَ بِالْغَيْبِ وَيُقِيمُونَ الصَّلوةَ وَ مِمَّا رَزَقْنَهُمْ يُنْفِقُونَ (البقرہ:۴) خدا کا خوف رکھنے والے وہ لوگ ہیں جو غیب پر ایمان لاتے ہیں اور عبادتوں کو قائم کرتے