خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 611
خطبات طاہر جلدے 611 خطبه جمعه ۲ ستمبر ۱۹۸۸ء جس کثرت کے ساتھ جنگ بدر میں فرشتوں کے نزول کی شہادت ملتی ہے۔فرشتے کیوں نازل ہوئے تھے اس لئے کہ آپ کے صحابہ میں سے ہر ایک جان دینے پر تلا بیٹھا تھا۔وہ یہ ارادے باندھ کر اور یہ دعائیں کرتا ہوا میدان بدر میں نکلا تھا کہ میں اب زندہ واپس لوٹ کر نہیں جاؤں گا۔پس وہ لوگ جو خدا کی خاطر سب کچھ فدا کر دیا کرتے ہیں ان کے لئے فرشتے اترا کرتے ہیں جو ہاتھ پر ہاتھ دھر کے بیٹھ جائیں ان کے لئے کبھی فرشتے نہیں اترا کرتے۔اس لئے اگر آپ نے فرشتوں کا نزول دیکھنا ہے اور میں یقین رکھتا ہوں کہ آپ میں وہ صلاحیتیں موجود ہیں جن کو کام میں لانے کے نتیجہ میں خدا کے فرشتے ضرور آپ پر نازل ہوں گے تو پھر آپ کو کام کرنا ہوگا۔آپ میں سے ہر نوجوان کی مجھے ضرورت ہے وہ لبیک کہے میری آواز پر آگے آئے اور جو کچھ اس کی صلاحیتیں ہیں وہ دین کی خاطر پیش کر دے۔یہاں آکر میں نے ایک یہ بھی رجحان دیکھا ہے کہ بعض لوگ اس جگہ کو چھوڑ کر باہر نکل رہے ہیں۔اس ملک کو آپ کی ضرورت ہے۔آپ کی نسلوں کی افزائش اس ملک میں ہوئی۔اس وفا کا تقاضا ہے کہ اس ملک میں رہ کر اس کی خدمت کرے۔یہ کونسی وفا ہے کہ جو اس ملک کے اچھے وقت تھے جو آپ نے اس ملک سے دنیا وی فائدے اٹھائے اس وقت تک آپ ان کے ساتھ رہے اور جب وہ وقت گزر گئے اور آپ نے وقتوں کو بدلتے ہوئے دیکھا تو آپ نے بھی آنکھیں پھیر لیں اور پیٹھ دکھا کر اس ملک سے باہر چلے گئے۔اس سے تو بہتر ہندی دو ہے میں بیان کردہ اس پرندے کا حال ہے جس کے متعلق بیان کیا جاتا ہے دو ہے میں کہ ایک درخت کو آگ لگ گئی تھی اور وہ پرندہ اسی طرح شاخوں پر بیٹھا ہوا تھا۔کسی دو ہے میں بیان کیا گیا ہے کہ کسی مسافر نے یہ حال دیکھا تو پرندہ سے کہا کہ دیکھو سارا درخت جل اٹھا ہے جس شاخ پر تم ہو وہ بھی جلنے والی ہے تم کیوں اڑ نہیں جاتے تمہیں تو خدا نے اڑنے کی طاقت دی ہے۔اس نے کہا نہیں، یہ نہیں ہوسکتا۔یہ وہ درخت ہے جس نے مجھے پھلوں کے ساتھ زندگی بخشی میری بھوک کو مٹایا اور جس کی گرمی میں میں نے سردیوں کی سختی سے نجات پائی اس کے سبز سبز پتوں پر بیٹھ کے میں نے خوشگوار وقت گزارے۔اب یہ کون سا دھرم ہے کہ جب اس درخت پر ختی آئے تو میں اسے چھوڑ کر چلا جاؤں۔کتنا عظیم الشان یہ قصہ بنایا گیا ہے۔ہے تو قصہ ہی لیکن ہے عظیم الشان اس میں کتنا گہر اسبق ہے۔