خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 613 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 613

خطبات طاہر جلدے 613 خطبه جمعه ۲ ستمبر ۱۹۸۸ء ہیں وَمِمَّا رَزَقْنَهُمْ يُنْفِقُونَ اور جو کچھ ہم نے ان کو عطا فرمایا ہے اس میں سے وہ خرچ کرتے ہیں۔پس وہ لوگ جو خدا کی راہ میں خرچ نہیں کر سکتے ان کی صحت درست نہیں ہے اور خدمت دین کے لئے صحت مند آدمی چاہئیں۔وہ کہتے ہیں کہ تم لوگوں نے چندے پر زور دیا ہوا ہے اگر ہم خدا کے بندے ہیں تو اس پر زور دیں گے جس پر خدا نے زور دیا ہے۔قرآن کریم کا مطالعہ تو کر کے دیکھیں کون سی جگہ ہے جہاں خدمت دین کا ذکر ہو اور اس کے ساتھ مالی قربانی کا ذکر نہ ہو۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے صحابہ نے جو بیعت لی اس بیعت کا خلاصہ قرآن کریم نے ان الفاظ میں بیان فرمایا: اِنَّ اللهَ اشْتَرى مِنَ الْمُؤْمِنِينَ أَنْفُسَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ بِأَنَّ لَهُمُ الْجَنَّةَ (التوبہ ) کہ خدا تعالیٰ نے مومنوں سے ان کی جانیں بھی خرید لی ہیں، ان کے مال بھی خرید لئے ہیں بِأَنَّ لَهُمُ الجنَّةَ بیعت کا مطلب یہ ہوتا ہے بیچ دینا۔اس سودے کی تعریف یہ ہے، اس بیعت کا خلاصہ یہ ہے کہ اپنی جان بھی پیش کرو اور مال بھی پیش کرو۔پس ایسے مخلصین نہیں چاہئیں جو جان تو پیش کر سکتے ہیں مال پیش نہیں کر سکتے۔سولہواں حصہ چندہ ہے سال، مہینے کا یا جو بھی آمد ہے جو خدا نے دیا ہے۔جو اتنے خسیس ہوں کہ خدا کو وہ سولہواں بھی واپس نہ کر سکتے ہوں انہوں نے خدمت دین کیا کرنی ہے لیکن میں سمجھتا ہوں اس میں صرف ایسے نو جوانوں یا بڑوں کا قصور نہیں ہے ان کے ضمیر کا بھی کچھ قصور ہوا کرتا ہے۔میرا تو تجربہ یہ ہے کہ بہت کم جماعت احمدیہ میں ایسے بدنصیب ہیں جن کے دل خشک ہو چکے ہیں، جو مالی قربانی کر ہی نہیں سکتے۔اگر نظام جماعت ان سے صحیح تعلق قائم کرے ، ان کو سمجھائے تو اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ انہی دلوں میں سے خدا کی خاطر قربانی کے چشمے پھوٹ پڑتے ہیں۔بہت سے ایسے دوست میں نے خود دیکھے ہیں جن کے متعلق کہا جاتا تھا کہ یہ بالکل مالی قربانی نہیں کر سکتے لیکن جب ان سے گفتگو کی گئی ان کو سمجھایا گیا تو ان میں زمین آسمان کا فرق پڑ گیا۔اس لئے اس طرف بھی یہاں توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ہمیں تو بہر حال وہی آدمی چاہئیں جو قرآن کی تعریف کے مطابق دونوں ٹانگوں پر چلنے کی اہلیت رکھتے ہوں۔انفس کی قربانی بھی کر سکتے ہوں اور اموال کی قربانی بھی کر سکتے ہوں اللہ تعالیٰ آپ کو توفیق عطا فرمائے۔خدا سے مال کے معاملے میں بدظنی کرنا بہت ہی بڑا گناہ ہے یعنی خدا جب مانگے آپ سے اس وقت آپ کہیں کہ نہیں مجھے ڈر ہے میں کہیں غریب نہ ہو جاؤں۔بیوقوفی کی بھی حد ہے۔دیا خدا