خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 610 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 610

خطبات طاہر جلدے 610 خطبه جمعه ۲ ستمبر ۱۹۸۸ء کی صفات میں شریک ہو گئے۔أَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ کی جو اصل صفت ہے وہ محمد رسول اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صفت ہے آپ تھے شدید کفار پر سب سے زیادہ رحمت کی صفت آپ میں موجود تھی۔رحمتہ للعالمین آپ ہی کا تو لقب ہے مومنوں کے لئے بھی آپ ہی کے متعلق فرمایا گیا بِالْمُؤْمِنِينَ رَءُوفٌ رَّحِيمٌ (التوبہ: ۱۲۸) وہاں جو رحیم کا لقب آپ کے لئے استعمال فرمایا گیا ہے جو خدا کی صفت ہے۔ان صفات میں دوسروں کو اپنا شریک بنالیا، اپنے جیسا بنا تا چلا گیا یہاں تک کہ ایک عظیم الشان جماعت تیار ہو گئی جس کے متعلق خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ یہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صفات میں اب ان کے ساتھ مل گئی ہے، ان جیسی بنتی چلی جارہی ہے۔پس وہ قیادت جو منجمد ہو جس میں پھیلنے اور وسعت اختیار کرنے کی صلاحیت نہ ہو وہ بسا اوقات دبانے کا موجب بن جایا کرتی ہے۔بڑ کا درخت بڑا اچھا لگتا ہے بہت عظیم الشان ہے، اس کا بہت بڑا بڑا پھیلاؤ ہوتا ہے یہاں تک کہ بعض ایسے بڑ کے درخت بھی دنیا میں موجود ہیں جن کے سائے تلے ہمارار بوہ کا سالانہ جلسہ منعقد ہو سکتا ہے اتنا بڑا ان کا پھیلاؤ ہوتا ہے لیکن ایک کمزوری بھی ہے بڑ کے نیچے دوسرے درخت نشو ونما نہیں پاسکتے۔پس ایسی قیادت جس کے نیچے دوسری قیادت نشو ونما نہ پاسکے وہ قیادت بے کار ہے کیونکہ آخر اس قیادت نے ختم ہو جانا ہے اور ایسے پیچھے نقش چھوڑ جائے گی یہ قیادت کہ جس کے سروں پر کوئی سایہ نہ رہے گا۔اس لئے اس بنیادی کمزوری کو بھی بہر حال ہمیں دور کرنا ہوگا۔میں انشاء اللہ تعالیٰ یہاں سے رخصت ہونے سے پہلے بعض ایسے اقدامات یہاں کر کے جاؤں گا جس کے نتیجہ میں جیسا کہ میں نے دیکھا ہے مخلص احمدی نوجوان آگے آئیں گے اور ان کو آگے آنا پڑے گا۔اگر انہوں نے آگے آکر دین کے کام نہ سنبھالے تو آسمان سے اور فرشتے نازل نہیں ہوں گے۔فرشتے نازل ہوا کرتے ہیں لیکن فرشتہ دلوں پر نازل ہونے کیلئے نازل ہوا کرتے ہیں۔یہ نہیں ہوا کرتا کہ دوست ایک طرف بیٹھے رہ جائیں اور فرشتے نازل ہوکر ان کے کام کریں۔جنگ بدر میں بھی فرشتے نازل ہوئے تھے اور کثرت کے ساتھ صحابہ نے کشفی طور پر ان فرشتوں کو دیکھا با قاعدہ صحابہ کے ساتھ لڑتے ہوئے دیکھا، ان کے ساتھ شامل ہوکر شانہ بشانہ دشمنوں سے لڑتے ہوئے دیکھا۔کسی اور غزوہ میں اس کثرت کے ساتھ فرشتوں کے نزول کی شہادت نہیں ملتی