خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 609 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 609

خطبات طاہر جلدے 609 خطبه جمعه ۲ ستمبر ۱۹۸۸ء بہت پیار کرنے والے، اپنے گردا کٹھا کرنے والے اور اپنے جذبات کی گرمی سے لوگوں کے دلوں کو گرمانے والے تھے اور ہر وہ انسان جو مربی ہونے کا دعویدار ہو جو دنیا کی تقدیر کو تبدیل کرنے کا دعوے کرتا ہو وہ اس کے سوا ہرگز اس کام کو سر انجام نہیں دے سکتا یہاں تک کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیروی کرے، آپ کا اسوہ اختیار کرے اور وہی طریق اختیار کرے جن طریقوں کو اختیار کر کے حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چند سالوں ہی میں ایک عظیم الشان انقلاب بر پا کر کے دکھا دیا تھا۔یہاں آنے کے بعد بھی جو حالات میں نے دیکھے ہیں اور بغور مطالعہ کیا ہے ان سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ یہاں کی قیادت میں انجماد کی ایک شکل پائی جاتی ہے۔جو چیزیں منجمد ہوں ان کے دائرے پھیلا نہیں کرتے اور وہ اسی طرح اسی دائرہ میں محدود رہ جاتی ہیں۔یہاں بہت سے ایسے ہیں مجلس عاملہ کے ممبران ہیں جو غالبا دسیوں سال سے اسی طرح چلے آرہے ہیں اور ان میں آپ کبھی کوئی تبدیلی نہیں دیکھیں گے۔کوئی نیا خون یہاں مجلس عاملہ میں داخل ہوتا دکھائی نہیں دے گا یعنی جماعت کی کیفیت یہ ہے کہ کوئی ٹیم اردگرد تیار نہیں ہو رہی حالانکہ زندہ قیادت کی بنیادی صفت یہ ہے کہ وہ کبھی منجمد نہیں ہوتی اور اس کا دائرہ اثر بڑی تیزی کے ساتھ پھیلنے لگتا ہے اور نئے وجود اس کے زیر اثر آکر قائدانہ صلاحیتوں سے مرصع ہونے لگتے ہیں، اس سے مزین ہونے لگتے ہیں۔قیادت کی تربیت دینا بھی قیادت ہی کا کام ہے اور اگر قیادت محدود ہو جائے اور منجمد ہو جائے تو آئندہ نسلوں کے لئے قیادت کا بحران پیدا ہونے کا خطرہ پیدا ہو جاتا ہے۔حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت کا یہ ایک نمایاں پہلو تھا کہ آپ کی قیادت میں ہمیشہ ہر وقت وسعت ہوتی چلی جارہی تھی۔آپ کو خدا نے تمام دنیا کا قائد بنایا، آپ میں تمام دنیا کا قائد بنے کی صلاحیتیں موجود تھیں تو آپ کو قائد بنایا لیکن اس کے باوجود آپ نے محض اپنی ذات پر انحصار نہیں کیا بلکہ کثرت کے ساتھ اور قائدین بناتے چلے گئے یہاں تک کہ قرآن کریم نے آپ کی اس خوبی کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا۔مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللهِ وَالَّذِينَ مَعَةً (افتح ۳۰) بنیادی بات قابل غور ہے وہ یہ ہے کہ محمد رسول اللہ کہتے ہی ساتھ ہی وَالَّذِينَ مَعَةَ فرما دیا کہ محمد اکیلا نہیں رہا ان کے انکسار میں محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ آپ کے ساتھی بھی آپ