خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 43
خطبات طاہر جلدے 43 خطبه جمعه ۱۵/جنوری ۱۹۸۸ء دفعہ بڑے خوبصورت بت بنا کر ان پر بہت ہی خوبصورت کپڑے پہنائے ہوئے ہوتے ہیں آپ ان کو جس طرح چاہیں پسند کریں، جس تحسین کی نظر سے بھی دیکھیں لیکن آپ کے دل میں ایک ادنی سی بھی تحریک وہ پیدا نہیں کر سکتے اپنی محبت کے لئے یعنی اپنی محبت کا جذبہ پیدا نہیں کر سکتے اپنے دل میں اور پھر بھی ان کو آپ مردہ ہی سمجھتے ہیں لیکن ایک پھٹے ہوئے کپڑوں میں اور بوسیدہ کپڑوں میں لیٹا ہوا انسان بعض دفعہ اپنی اداؤں کے نتیجہ میں اپنے بعض نقوش کے نتیجہ میں اتنا پیارا لگتا ہے کہ انسان کا دل اڑتا ہوا اس کی طرف مائل ہوتا ہے۔اسی طرح میں نے جائزہ لیا ہے ادب کی دنیا کا حال ہے۔اچھا ادب وہ ہے جو زندہ ہو، اچھا ادب وہ ہے جس میں صداقت کی روح پائی جاتی ہو اور بظاہر وہ ناقص بھی ہو بظاہر اس ادب کے کپڑے پھٹے ہوئے ہوں، اس کے الفاظ دریدہ ہوں پھر بھی وہ زندہ ادب زندہ ادب ہے عام ادب کو اس سے کوئی نسبت نہیں۔اسی وجہ سے حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کا کلام چودہ سوسال گزرنے کے باوجود زندہ ہے۔بعض حدیثیں آپ پڑھیں گے تو جتنی دفعہ چاہیں پڑھیں ان کی لذت ختم نہیں ہوسکتی کیونکہ آپ جانتے ہیں کہ وہ زندہ ہے اور زندہ کرنے والا کلام ہے۔یہی وجہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے کلام کا خلفاء کے کلام سے بھی ایک فرق ہے اور سلسلہ کے دیگر بزرگوں اور اولیاء کے کلام سے بھی ایک فرق ہے۔اتنا نمایاں فرق ہے کہ نام مٹا دیئے جائیں تب بھی ہر احمدی یا ہر باشعور انسان ان تحریروں کے فرق کو معلوم کرسکتا ہے۔بالکل دنیا ہی اس کی اور ہے۔جو نبوت سے زندگی نصیب ہوتی ہے کلام کو وہ کسی اور چیز سے نصیب نہیں ہو سکتی۔ایک ایک فقرہ بعض دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا بڑی بڑی کتابوں کے مضامین پر حاوی ہوتا ہے اس کو پڑھتے ہوئے ، اس کو دیکھتے ہوئے نظر خیرہ ہوتی ہے، انسان کو خود زندگی نصیب ہورہی ہوتی ہے۔پس ان خطوں میں جو میں زندگی دیکھتا ہوں وہ اسی مضمون کی زندگی ہے اور جہاں احمدی قربانی کا ذکر کر رہے ہوتے ہیں ان کی عبارت میں ایک اور شان پیدا ہو جاتی ہے وہی جب دوسرے اپنے مسائل لکھتے ہیں تو بالکل معیار سے گری ہوئی عام عبارت ، اس میں کچھ بھی رونق نہیں ہوتی اور کوئی قابل دید چیز دکھائی نہیں دیتی لیکن جب خدا کی محبت میں قربانی پیش کرنے کا خدا کے فضلوں کا ذکر کرتے ہیں تو اچانک اس عبارت میں ایک نئی زندگی، ایک نئی بلندی پیدا ہو جاتی ہے اور ان کے لئے خصوصیت سے