خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 42
خطبات طاہر جلدے تعالیٰ انہیں قربانی کی توفیق عطا فرمائے۔42 خطبه جمعه ۱۵/جنوری ۱۹۸۸ء اس پہلو سے جن تحریکات کا میں ذکر کر رہا ہوں ان تحریکات پر وہ لوگ جن کو خدا نے قربانی پیش کرنے کی توفیق عطا فرمائی ہے وہ لوگ سب سے زیادہ اس بات کے گواہ ہیں کہ جب انہوں نے قربانی پیش کر دی تو پھر انہیں خدا نے کیسی لذت عطا کی۔ہر قربانی کرنے والا جب قربانی دیتا ہے تو ایک عجیب لذت سے آشنا ہوتا ہے جس کو قربانی نہ دینے والا تصور بھی نہیں کرسکتا۔وہ خدا کی راہ میں پیش کرنے کے بعد پچھتاتا ہوا گھر واپس نہیں آتا کہ میں اتنے روپے لیکر گیا تھا اور اب خالی ہو کر واپس لوٹ رہا ہوں بلکہ اتنے روپے لانے والے شخص کے مقابل پر اس کو بہت ہی زیادہ روحانی لذت اور سرور حاصل ہو رہا ہوتا ہے۔دنیا میں ایک ہی دن کئی سفر کرنے والے ایسے ہوں گے ایک روپیہ وصول کرنے جارہا ہے اور ایک احمدی دنیا کے کسی کونے میں خدا کی راہ میں اپنے پیسے سے بظاہر ہاتھ دھونے کیلئے جارہا ہے ، اپنا پیسہ خود اپنے ہاتھوں سے لٹانے کے لئے جا رہا ہے۔یہ دو بالکل مختلف نوعیت کے سفر ہیں۔ایک دولت کھونے والا سفر نظر آرہا ہے اور ایک دولت پانے والا سفر ہے۔لیکن دولت پانے والا وجود تصور بھی نہیں کر سکتا کہ اس خدا کی راہ میں دولت کھونے والے وجود کو کتنا مزہ آیا ہے، کتنی اسے لذت محسوس ہوئی ہے اور اس بات کی گواہیاں بھی روزانہ بلا استثناء مجھ تک خطوں کے ذریعہ پہنچتی رہتی ہیں۔حیرت انگیز رنگ میں لوگ دین سے اپنی محبت اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے قربانی کے عطا کرنے کے نتیجہ میں جذبات تشکر کا اظہار کرتے ہیں۔کسی کو زبان اچھی آتی ہے کسی کو اچھی نہیں آتی کسی کو کسی محاورے پر عبور ہوتا ہے کسی کو نہیں ہوتا بعض ایسے بھی ہیں جو سیدھی اردو لکھنا بھی نہیں جانتے۔پنجابی کے لفظ بھی بیچ میں استعمال کر رہے ہوتے ہیں یا کسی اور زبان کے۔ہندوستان سے خط آتے ہیں بعض علاقوں میں مذکر مونث کی تفریق نہیں ہو رہی ہوتی اور اس کے باوجود ہر خط اپنی ذات میں ایک ادب کا شہ پارہ ہوتا ہے کیونکہ وہ قربانی کے ذکر سے زندہ ہوا ہوتا ہے ان کے اندران لفظوں میں ایک روح ہوتی ہے اور روح خواہ پھٹے ہوئے کپڑوں میں ملبوس ہو خواہ اعلیٰ قسم کے لبادوں میں لیٹی ہوئی ہو جو روح ہے وہ روح ہی ہے وہ زندہ چیز ہے جس کے ساتھ مردہ چیز مقابلہ نہیں کر سکتی۔اسی طرح ادب میں بھی میں نے دیکھا ہے کہ بعض بڑی مسجع عبارتیں ہوتی ہیں بڑی بھی ہوئی خوبصورت عبارتیں لیکن روح سے خالی ہوتی ہیں۔ان کی مثال ایسی ہوتی ہے جیسے کھڑکیوں میں بعض