خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 466
خطبات طاہر جلدے 466 خطبہ جمعہ یکم جولائی ۱۹۸۸ء کوشش کرے۔اس جماعت کو آپ نے الگ کر کے رکھ دیا ہے جو آپ کی بات نہیں مانتے ان کو آپ زبر دستی ڈنڈے کے زور سے مسلمان بنانے کی کوشش کر رہے ہیں یہ چلے گی نہیں بات یہ ہو نہیں سکتا۔پھر جن ملاؤں کو آپ نے آگے کیا اور اٹھایا اور مسلمانوں پر مسلط کیا ان کا کیوں نہیں جائزہ لیتے بجائے جمہوریت کا جائزہ لینے کے؟ تین سالہ جمہوریت نے جو کچھ کیا وہ ان کا دائرہ سیاسی دائرہ تھا اور ان کی اپنی جو حالت تھی آپ کو بھی علم تھا کہ کیا حالت تھی ، کیا کیا کارروائیاں ان کے ساتھ ہوئیں کس کس کا رروائی میں آپ شریک تھے ، یا نہیں شریک تھے ہمیں اس سے کوئی بحث نہیں ہے۔قوم جانے اور آپ جانیں ایک دوسرے کا احتساب کریں۔اللہ تعالیٰ آپ کو تقوی اختیار کرنے کی توفیق بخشے ہماری تو صرف یہی تمنا ہے لیکن اتنا میں جانتا ہوں کہ اس سارے عرصے میں پاکستان کا ملاں اس بات سے کلیۂ بے نیاز رہا ہے کہ پاکستان کی گلیوں میں کیا ہورہا ہے اور آپ نے بھی ان کو زکوۃ دے دے کر ایک ہی طرف لگائے رکھا ہے کہ اسلام کی خدمت کرنی ہے تو احمدیوں کے اوپر ڈنڈے لے کر چڑھ دوڑو اور دن رات ان کے خلاف بکواس کرتے رہو، گندے بیان دیتے رہو ، گالیاں دیتے رہو، جھوٹ اچھالتے رہو ، یہ اسلام کی خدمت ہو رہی ہے۔اگر یہ اسلام کی خدمت ہے تو وہ تو جیسے مارشل لاء میں ہو رہی تھی ویسے ہی جمہوریت میں بھی ہو رہی ہے۔اس میں تو کوئی بھی فرق نہیں پڑا۔اسی طرح کھلے بندوں ، کھلے بازاروں میں یہ خدمت چلتی پھرتی رہی ہے اور کوئی بھی روک پیدا نہیں ہوئی۔اس میں تو جو نیجو صاحب کا کوئی قصور نہیں بیچاروں کا۔یہ بات آپ کو کیوں نظر نہیں آتی یہ سیدھی سادھی بات ہے میں نصیحت کے رنگ میں آپ کو بتانی چاہتا ہوں کہ اس سارے عرصے میں جو آٹھ سال کا عرصہ کہیں یا گیارہ سال کا عرصہ، پاکستان کے عوام جو نماز ترک کرتے رہے ہیں کس کی ذمہ داری تھی ان کو نمازوں کے اوپر کار بند کرانے کی ہولوی کی ذمہ داری تھی۔وہ جو بے حیائیوں میں بڑھتے رہے ان کو حیا کی طرف واپس لانے کی ذمہ داری کس کی تھی ؟ مولوی کی ذمہ داری تھی کیونکہ وہ مذہبی رہنما ہے۔وہ لوگ جو دن بدن نشوں کے عادی ہوتے رہے ہیں شراب خوری اور قمار بازی میں مبتلا ہوتے رہے ان کو ان چیزوں سے روکنے کی ذمہ داری کس کی ذمہ داری تھی؟ اولین ذمہ داری مولوی کی ذمہ داری تھی کیونکہ مولوی مذہبی رہنما ہے۔جس کی آنکھوں کے سامنے ڈا کے پڑے، جس کی آنکھوں کے سامنے عورتوں کی عزتیں لوٹی گئیں، جس کی آنکھوں کے سامنے معاشرے کو ہر قسم کے