خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 465
خطبات طاہر جلدے 465 خطبہ جمعہ یکم جولائی ۱۹۸۸ء کئے جاتے ہیں، تعلیمی حقوق سے محروم کئے جاتے ہیں ،گلیوں میں بے عزت اور ذلیل کئے جاتے ہیں، ان کی مسجد میں مسمار کی جاتی ہیں لیکن عجیب جواں مرد ہیں کہ قانون اور سارے قانون کے ظالمانہ ذرائع ان کے مقابل پر کھڑے ہیں لیکن اسلام پر عمل درآمد سے نہیں رکھتے۔نمازیں پڑھتے ہیں قربانی دے کر ، قیمت ادا کرنی پڑتی ہے نمازوں کی ، مسجدوں میں جاتے ہیں اپنی عزت اور جان کو ہتھیلی میں لیکر ان کا ہر قدم جو نیکی کی طرف اٹھتا ہے اس کے مقابل پر ایک شیطان کی تلوار ان کے سر کے اوپر لٹکائی جاتی ہے اور دھمکایا جاتا ہے کہ نیکی کی طرف اٹھانے والے قدم روک لو ورنہ تمہیں اس کی قیمت دینی پڑے گی۔پھر بھی وہ قوم عجیب قوم ہے جو نیکی کی راہوں پر آگے بڑھنے سے نہیں رکتی نہیں باز آ رہی۔ایک اس کے مقابل پر ایک اور قوم ہے جس کی سربراہی کا جنرل ضیاء الحق صاحب کو دعویٰ ہے وہ کہتے ہیں میں مسلمان ہوں ، قوم مسلمان نہیں ، مجھے اسلام سے ایسی محبت ہے کہ اس بد بخت قوم کو ز بر دستی مسلمان بنا کے چھوڑوں گا اور جس طرح پہلے آٹھ سال میں کوڑے مار کر اور سزائیں دے کر اور سنگسار کرنے کی دھمکی دے کر ہم نے کسی نہ کسی حد تک مسلمان بنا کے دکھا دیا تھا۔اب تین سال کی جو گندگی پھیلی ہے اس کو ختم کرنے کے لئے ہمیں دوبارہ وہی اقدامات کرنے پڑیں گے۔ڈنڈے کے زور سے ان لوگوں کو مسلمان بناؤں گا۔پوچھنے والی بات یہ ہے کہ جو ہیں نہیں ان کو مسلمان کہتے کیوں ہو اور جو ہیں ان کو غیر مسلم کیوں کہتے ہو ؟ تھوڑا سا نظر کا فرق ہے اگر آنکھیں کھول کر دیکھو تو سہی کہ اسلام ہے کہاں۔جہاں اسلام ہے اگر اسلام سے کچی محبت ہے تو اس طرف چلے جاؤ لیکن اس کے باوجود یہ دیکھ نہیں رہے ان کو سمجھ نہیں آرہی، جب تک یہ احمدیت کی مخالفت نہیں چھوڑتے اور احمدیت کو قوم میں خدا اور رسول کی خاطر اصلاحی کارروائیوں کی اجازت نہیں دیتے ، اس وقت تک ان کے نیک ارادے (اگر وہ نیک ہیں واقعہ ) اور ان کے تمام اسلام کی خاطر بنائے جانے والے منصوبے بالکل ناکام رہیں گے۔ان میں کوئی بھی برکت نہیں ہوگی۔کوئی بھی جان نہیں پڑے گی۔جماعت احمدیہ کو خدا تعالیٰ نے اسلامی اخلاق اور اسلامی عادات اور اسلامی اعمال کا امین بنایا ہے اور جماعت احمد یہ ہی ہے جس کے سپرد یہ کام کیا گیا ہے کہ وہ نصیحت کے ذریعہ ، نیک مثال کے ذریعہ اور جان و دل کی قربانی کے ذریعے معاشرے کو اسلامی قدروں کی طرف واپس لانے کی