خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 467
خطبات طاہر جلدے 467 خطبہ جمعہ یکم جولائی ۱۹۸۸ء گندے ناسور سے بھر دیا گیا ہر قسم کی غلاظتوں سے بھر دیا گیا اور وہ خاموش بیٹھا دیکھتا رہا ہے۔اس کو کیوں نہیں آپ نے پوچھا؟ بجائے اس کے کہ ایک اسمبلی کو برطرف کریں ان ملاؤں کو برطرف کریں، ان کا حساب لیں۔یہ اسلام نافذ کرنا نہ مارشل لاء کا کام تھا نہ سیاسی حکومتوں کا کام ہوا کرتا ہے، نہ ان کے بس کی بات ہے۔یہ قوم کے مذہبی رہنماؤں کا کام ہوا کرتا ہے پس اگر قوم ناکام ہوئی ہے تو مذہبی رہنما نا کام ہوئے ہیں ان کو غلط سمتوں میں چلانے کے ذمہ دار آپ ہیں۔آپ نے ان کو اسلام کی تو ہوش ہی نہیں آنے دی، اسلام پر عمل درآمد سے روکنے پر وہ مامور رہے ہیں ان کی پشت پنا ہی آپ کرتے رہے ہیں، ان کو زکوۃ کے پیسے دیتے رہے ہیں، ان کا دن رات کام یہ تھا کہ جو نماز پڑھتے ہیں ان کو نماز پڑھنے سے روک دیں ورنہ ان کی دل آزاری ہوتی ہے، جو اذان دیتے ہیں ان کو اذان دینے سے روک دیں ورنہ ان کی دل آزاری ہوتی ہے، جو کلمہ پڑھتے ہیں لا الہ الا للہ محمد رسول اللہ ان کو کلمہ پڑھنے کی شدید سزائیں دیں ورنہ ان کی دل آزاری ہوتی ہے۔ان کی مسجدیں دیکھ کر دل آزاری ہوتی ہے، ان کے مسجد میں آنے جانے کو دیکھ کر دل آزاری ہوتی ہے، ان کی خدمت خلق کو دیکھ کر دل آزاری ہوتی ہے۔اوجڑی کیمپ کے مصیبت زدگان ہوں یا کسی اور مصیبت کے مارے ہوئے جہاں احمدی جائے خدمت خلق کیلئے وہاں ان کی دل آزاری ہوتی ہے۔یہ اسلام کا تصور ہے کہ جہاں اسلام دیکھو وہاں اسلام کو دیکھ کر بھڑک اٹھو اور کہو کہ ہم برداشت نہیں کر سکتے کہ اسلام پر عمل ہو رہا ہے تو وہ معاشرہ جو اسلام پر عمل پیرا تھا اس پر تو آپ نے مولوی مسلط کر دئیے کہ ان کو اسلام پر عمل نہیں کرنے دینا اور دل آزاری کا بہانہ بنا کر جو مظالم چاہوان پر تو ڑو اور ساری حکومت کی مشینری تمہارے ساتھ ہے اور جن کو اسلام پر کار بند کرنے کا آپ ادعا کر رہے ہیں ان سے ان کو بالکل غافل رکھا گیا ہے۔ان کے اوپر کیوں نہیں مسلط کیا گیا ان کو ، وہاں کیوں نہیں بھجوایا گیا ان کو ؟ ان کو زکوۃ کا پیسہ دیتے شوق سے دیتے سعودی عرب سے مانگ کر دیتے ، امریکہ سے مانگ کر دیتے ہمیں تو کوئی اعتراض نہیں مگر خدمت دین کے لئے دیتے۔ان کو بھجواتے کراچی، ان کو لاہور بھجواتے ، ان کو فیصل آباد مقرر کرتے۔انکم ٹیکس کے ساتھ ان کے روابط رکھتے کہ جہاں جہاں انکم ٹیکس کی چوری ہورہی ہے مولوی پہنچیں اور ان کو ہدایت کریں کہ بھئی چوری نہیں کرنی۔رشوت ستانی کے محکمے کے ساتھ علماء مقرر کر دیتے کہ جہاں جہاں رشوت ستانی کی وارداتیں زیادہ ہو رہی ہیں وہاں مولوی صاحب ساتھ