خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 462 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 462

خطبات طاہر جلدے 462 خطبہ جمعہ یکم جولائی ۱۹۸۸ء اس مقام پہ پہنچ گئے ہیں جہاں جس کو چاہیں چیلنج دیں، جس قسم کی عقوبت سے ڈرایا جائے اس کو وہ آنکھوں میں آنکھیں ڈال کے قبول کریں۔اس مرتبے و مقام تک ابھی وہ پہنچے نہیں ہیں۔اس لئے ہم انتظار کرتے ہیں کہ خدا کی تقدیر دیکھیں کیا ظاہر کرے لیکن چیلنج قبول کریں یا نہ کریں چونکہ تمام آئمہ المکفرین کے امام ہیں اور تمام اذیت دینے والوں میں سب سے زیادہ ذمہ داری اس ایک شخص پر عائد ہوتی ہے۔جنہوں نے معصوم احمدیوں پر ظلم کئے ہیں اور اس ظلم کے پیچھے پڑ کر جھانکنے کی کوشش کی ہے کہ جو میں نے حکم جاری کیا تھاوہ جاری ہو بھی گیا ہے کہ نہیں اور ایک معصوم احمدی کیسے تکلیف محسوس کر رہا ہے۔جب تک یہ پتا نہ چلے ان کو لذت محسوس نہیں ہوتی تھی۔ایسے شخص کا زبان سے چیلنج قبول کرنا ضروری نہیں ہوا کرتا۔اس کا اپنے ظلم و ستم میں اسی طرح جاری رہنا اس بات کا نشان ہوتا ہے کہ اس نے چیلنج کو قبول کر لیا ہے۔اس لئے اس پہلو سے بھی وقت بتائے گا کہ کس حد تک ان کو جرات ہے خدا تعالیٰ کے مقابلے کی اور انصاف کا خون کرنے کی۔جہاں تک ان کی سیاسی کارروائیوں کا تعلق ہے ہم سیاسی جماعت نہیں ہیں لیکن چونکہ اس سیاسی کارروائی کو اسلام کے نام پر کیا گیا ہے اس لئے ایک مذہبی جماعت کے طور پر جو اسلام کی خادم ہے ہمیں اس کارروائی میں دلچسپی لینی چاہئے اور دیکھنا چاہئے کہ اسلام کے حق میں انہوں نے کیا کارروائیاں کی ہیں۔سب سے پہلی بات یہ کہ ایک اعتراف ہے کہ اب تک اس ملک میں اسلام کے لئے کچھ بھی نہیں ہو سکا اور جو کچھ کیا جا چکا تھا اس پر پچھلے تین سال میں منتخب حکومت نے پانی پھیر دیا ہے بلکہ اسلام کو پہلے سے بہت ہی زیادہ بدتر اور نہایت ہی نا گفتہ بہ حالت تک پہنچا دیا ہے اور پھر انہوں نے اس دور کے واقعات گنائے ہیں جو گزشہ تین سالہ دور کے واقعات ہیں کہ ان میں رشوت بڑھی، ان میں فساد بڑھا، ان میں قتل وغارت بڑھا۔یہ ہوا اور وہ ہوا یہ ساری اسلام کے منافی باتیں ہیں۔یہ بالکل درست ہے ہر احمدی اس بات سے اتفاق کرے گا کہ یہ ساری اسلام کی منافی باتیں ہیں اور جو سر براہ بھی قوم کا یہ عزم لیکر اٹھے کہ وہ اسلام کے منافی باتوں کا قلع قمع کرے گا اور اسلام کو نافذ کرنے کی کوشش کرے گا وہ ہم سے جتنی چاہے دشمنی رکھے اس کوشش میں جماعت احمد یہ اس کے ساتھ ہوگی کیونکہ ہم اسلام سے محبت کرنے والے ہیں اور اسلام سے سچی محبت کرنے والے ہیں۔کسی قیمت پر بھی ہمیں اسلام کا نقصان برداشت نہیں ہے۔اس لئے سارے پاکستان کی جماعت کا بالخصوص یہ