خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 463
خطبات طاہر جلدے 463 خطبہ جمعہ یکم جولائی ۱۹۸۸ء فرض ہے کہ وہ اسلام جس کی تفصیل انہوں نے اپنی تقریر میں یہ بیان فرمائی ہے کہ اسلامی اخلاق کو نافذ کرنا، اسلامی قدروں کو نافذ کرنا، خلاف اسلام باتوں کو معاشرہ سے دور کرنے کی کوشش کرنا اس میں جماعت احمدیہ کو صدر پاکستان سے ہر قسم کے اختلاف یا ان سے شکوؤں کے باوجو دان کی تائید کرنی چاہئے اور امر واقعہ یہ ہے کہ جماعت احمدیہ کے سوا کسی نے ان کی تائید کرنی بھی نہیں اس معاملہ میں۔ایک ہی جماعت ہے صرف جو اس دعوت اشتراک میں سب سے آگے بڑھے گی۔ایک ہی جماعت ہے جو جانتی ہے اس قول کا مطلب کہ تَعَالَوْا إِلى كَلِمَةٍ سَوَاءٍ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ (آل عمران : ۱۵) اے لوگو! مخالفتوں کے باوجود ، اختلاف کے باوجود ان نیک باتوں میں اکٹھے ہو جاؤ جن کا تم بھی دعوی کرتے ہو اور ہم بھی دعویٰ کرتے ہیں اس لئے اس میں تو کوئی شک نہیں کہ یہ اعلان ان کا بہت اچھا ہے کہ اسلام کو فی الحقیقت نافذ کرنے کی کوشش کرنی چاہئے لیکن یہ درست نہیں کہ ڈنڈے سے یہ اسلام نافذ ہوسکتا ہے۔اس میں جماعت احمدیہ کوسو فیصدی اختلاف ہے۔سوال یہ ہے کہ جس اسلام کو یہ نافذ کرنے کا عزم کر رہے ہیں اور کہتے ہیں کہ نہیں ہے نافذ ، وہ کن لوگوں پہ نافذ کریں گے جن کو خدا نماز کی تو فیق دیتا ہے اور نہیں پڑھتے ، جن کو خدا تعالی ظلم سے باز رہنے کی نہ صرف اجازت دیتا ہے بلکہ تلقین فرماتا ہے اور وہ تلقین کے باوجود ظلم سے باز نہیں رہتے۔جن کو جب موقع ملے ڈاکہ زنی کرتے ہیں، جب توفیق ملے رشوت ستانی میں ملوث ہو جاتے ہیں گویا وہ ساری برائیاں جن کا نقشہ صدر پاکستان نے اپنی تقریر میں کھینچا ہے وہ تمام کی تمام ایسی برائیاں ہیں جن سے رکنے کا بندے کو اختیار ہے اور ان کے نزدیک ساری قوم اس میں ملوث ہو چکی ہے اور تین سالہ جمہوریت نے اس ہر بدی میں اس قوم کو آگے بڑھا دیا ہے۔تو اسلام پھر نا فذ نہیں ہے وہاں۔جس قوم کے اوپر یہ نافذ کرنا چاہتے ہیں وہ عملاً اپنے غیر مسلم ہونے کا اعلان کر رہی ہے۔یہ اس کا منطقی نتیجہ نکلتا ہے کیونکہ اگر اسلام یہ ہے اور قوم اس کو قبول نہیں کرتی بلکہ عملاً رد کر چکی ہے بحیثیت قوم تو ایسی قوم جو اسلام کو رد کر چکی ہو اس کے نام پر اسلام کو لانا یہ ویسے ہی غیر معقول بات ہے اور پھر اس کے مقابل پر اس تجزیہ میں انہوں نے یہ فرمایا ہے کہ دراصل اسلام اگر آیا تھا اس قوم میں یا اس ملک میں تو صرف مارشل لاء کے آٹھ سال میں آیا تھا یعنی گیارہ سال میں سے کہتے ہیں تین سال تو ہمارے ضائع ہو گئے جمہوریت کے تجربے میں۔جو پہلے آٹھ سال تھے اس میں اسلام آ گیا تھا اور مارشل لاء سے بڑھ کر اسلام کبھی نافذ