خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 461 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 461

خطبات طاہر جلدے 461 خطبہ جمعہ یکم جولائی ۱۹۸۸ء پوچھنا تھا کہ بتائیے ہم آگے کس طرح بڑھیں اور کیا کاروائیاں کریں یا جن کو مہیا کرنے تھے انہوں نے دوڑے دوڑے اللہ یارارشد کے پاس پہنچنا تھا کہ مشورہ دو کیا کیا جائے۔ایسے جھوٹ ایسی فساد کی باتیں ہیں اور ایسی گندی زبان ہے کہ سوائے اس کے کہ ایسا شخص تعفن پھیلا رہا ہو اور اس کے وجود کا مقصد کوئی نہیں صرف ایک مصیبت ہے کہ جو جسمانی منہ سے بدبو آتی ہے اس کو آپ لاؤڈ سپیکر کے ذریعہ پھیلا نہیں سکتے لیکن ایسے منحوس لوگوں کے منہ سے جو بد بوئیں نکلتی ہیں وہ لاؤڈ سپیکر کے ذریعے پھیلا دی جاتی ہیں اور سارے ربوہ میں اس شخص کا تعفن ہر روز پھیلتا ہے۔ایک عذاب ہے روحانی طور پر اہل ربوہ کے لئے اور وہ اس کو برداشت کر رہے ہیں۔خدا کی خاطر برداشت کر رہے ہیں۔یہ وہی تکلیفیں ہیں جن کے متعلق قرآن کریم فرماتا ہے کہ جب تم برداشت کرتے ہو تو اللہ کے پیار اور رحمت کی نظر تم پر پڑتی ہے ان کو تو جزا ملے گی مگر ایک ایسا شخص مباہلے کا چیلنج قبول کر رہا ہے اور کہہ رہا ہے کہ میں آگے سامنے آتا ہوں اس کے پیچھے ہے کون کون لوگ ہیں جو ایسے شخص کو اپنا سر براہ بناتے ہیں؟ ان کا اپنا گاؤں ان کے پیچھے نہیں ہے۔اس لئے جو میں نے ذکر کیا ہے کہ اس قماش کے لوگ ! یہ ایک مثال میں نے کھول دی ہے کہ ایسے لوگوں کا ذکر کر کے میں اپنا وقت ضائع کروں اور کہوں کہ فلاں نے قبول کر لیا اور فلاں نے قبول کر لیا۔ان کے قبول کرنے یا نہ کرنے کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ہاں اگر قبول کریں گے تو اپنی اپنی جگہ ایک چھوٹے سے دائرے میں جہاں جہاں تک ان کا تعفن پھیل رہا ہے وہاں ضرور نشان بنیں گے اور اللہ تعالیٰ سے ہم یہ دعا کرتے ہیں کہ لَّعْنَتَ اللهِ عَلَى الْكَذِبِينَ کہ ایسے لوگوں کے متعلق ان کے اپنے محدود دائروں میں ہی نشان ظاہر فرمادے۔جہاں تک صدر پاکستان ضیاء صاحب کا تعلق ہے ان کے متعلق ہمیں ابھی ان کو کچھ وقت دینا چاہئے ابھی ابھی انہوں نے کچھ سیاسی کاروائیاں کی ہیں اور اگر چہ وہ اسلام کے نام پر کی ہیں مگر بہر حال سیاسی کاروائیاں ہیں اور ان میں وہ مصروف بہت ہیں۔ابھی تک ان کو یہ بھی قطعی طور پر علم نہیں کہ آئندہ چند روز میں کیا واقعات رونما ہو جائیں گے۔اس لئے ہو سکتا ہے وہ تر در محسوس کرتے ہوں کہ یہ نہ ہو کہ ادھر میں چیلنج قبول کروں ادھر کچھ اور واقعہ ہو جائے۔اس لئے جب تک ان کی کرسی مضبوط نہ ہو جائے ، جب تک وہ اپنے منصوبوں پر کار بند نہ ہو جائیں اور محسوس نہ کریں کہ ہاں اب وہ