خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 426
خطبات طاہر جلدے 426 خطبه جمعه ۱۰/ جون ۱۹۸۸ء رکھتا ہے اور ہر وہ آنکھ جو اخلاص کے ساتھ حق کی متلاشی ہے۔اس پر معاملہ مشتبہ نہ رہے اور ہر اہل بصیرت پر خوب کھل جائے کہ سچائی کس کے ساتھ ہے اور حق کس کی حمایت میں کھڑا ہے، آمین یا رب العالمین۔ہم ہیں فریق اول جماعت احمدیہ کے سربراہ تمام دنیا کے ہر احمدی مردو زن کی نمائندگی میں ہر چھوٹے بڑے کی نمائندگی میں“۔میرے دستخط ہوں گے۔ان سب مکذبین اور معاندین کو یہ پہنچائی جائے گی۔دوسری طرف جگہ رکھی جائے گی فریق ثانی کے دستخطوں کیلئے جس میں دعوت ہوگی کہ ہر مکذب، مکفر ، امام تکفیر جو جماعت احمدیہ کے عناد میں اس کو نیست و نابود کے فکر میں ہے اور وہ اور اس کے ہم خیال ہر وہ شخص جو ایسے شخص کی حمایت میں جرات رکھتا ہو وہ اس پر دستخط کر دے اور جہاں تک گروہوں کا تعلق ہے ان گروہوں کے سر براہوں کو خواہ وہ حکومت سے تعلق رکھتے ہوں یا باہر سے ان سب کو میری طرف سے یہ دعوت ہے کہ اس قسم کی تحریر پر دستخط کر کے اخبارات میں اس کی اشاعت کریں۔ریڈیو اور ٹیلی ویژن پر اس کی اشاعت کریں اور خوب دنیا میں اس بات کا پروپیگنڈا کریں کہ ہم نے مباہلے کے اس چیلنج کو قبول کر لیا ہے تا کہ خدا کی طرف سے نشان نمائی ہو اور حق اور کذ سب کی راہیں الگ الگ کر کے دکھا دی جائیں۔یہ آخری چیلنج ہے اس کے بعد ہماری حجت کی ساری راہیں بند ہو جاتی ہیں اور پھر خدا تعالیٰ کی تقدیر کے فیصلہ کے انتظار کے دن باقی رہ جاتے ہیں جو اس صدی کے آخر کے دن ہیں میں جماعت کو تلقین کرتا ہوں تقویٰ کے ساتھ ، خدا خوفی کے ساتھ دعائیں کرتے ہوئے ، گریہ وزاری کرتے ہوئے یہ دعائیں کرتے ہوئے گزاریں کہ اگر خدا نے غضب ظاہر کرنے کا فیصلہ فرمایا ہے تو محض مکذبین کے سرداروں اور ان گروہوں کے نمایاں بدکرداروں پر خدا کا غضب ٹوٹے اور عوام الناس بیچارے جو پہلے ہی ظلموں کی چکی میں طرح طرح سے پیسے جارہے ہیں ان کو خدا تعالیٰ اس غضب سے بچالے۔لیکن ان کو حوصلہ دے کہ وہ ظلم کرنے والوں کیخلاف کھڑے ہوں اور آواز بلند کریں اور سینہ تان کے ان کے ظلم کی راہیں روک دیں۔یہی ایک طریق ہے جس کے ذریعے وہ خدا کے غضب سے بچ سکتے ہیں۔لیکن میں آپ کو بتاتا ہوں وہ دن ایسے دن ہیں کہ جن دنوں میں خدا تعالیٰ اپنے غضب کی تجلی دکھانے کیلئے آمادہ اور تیار ہوتا ہے۔وہ دن قریب ہیں اور جلد آنے والے