خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 427
خطبات طاہر جلدے 427 خطبه جمعه ۱۰/جون ۱۹۸۸ء ہیں کہ جب خدا تعالیٰ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی حمایت میں اور حمیت میں عجیب کام کر کے دکھائے گا اور دنیا دیکھے گی کہ سچ کس کا سچ ہے اور دین کس کا دین ہے اور کون ہے جو خدا پر افتر ا کرنے والا اور خدا کا دشمن اور خدا کے دین اور خدا کے رسول کا دشمن اور ان پر افترا کرنے والا ہے۔آخر پر میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی ایک تحریر پر اس خطاب کو ختم کرتا ہوں۔اس میں نصیحت بھی ہے اور انتباہ بھی ہے اور بڑی پر حکمت ایک تمثیل کے ذریعے اس معاملے کو خوب کھول دیا گیا ہے۔آپ فرماتے ہیں: ”ہمارا گر وہ ایک سعید گروہ ہے جس نے اپنے وقت پر اس بندہ مامور کو قبول کر لیا ہے جو آسمان اور زمین کے خدا نے بھیجا ہے اور ان کے دلوں نے قبول کرنے میں کچھ تنگی نہیں کی کیونکہ وہ سعید تھے اور خدا تعالیٰ نے اپنے لئے انہیں چن لیا تھا۔عنایت حق نے انہیں قوت دی اور دوسروں کو نہیں دی اور ان کا سینہ کھول دیا اور دوسروں کا نہیں کھولا۔سوجنہوں نے لے لیا انہیں اور بھی دیا جائیگا اور ان کی بڑھتی ہوگی مگر جنہوں نے نہیں لیا ان سے وہ بھی لیا جائے گا جو ان کے پاس پہلے تھا۔بہتیرے راست بازوں نے آرزو کی کہ اس زمانے کو دیکھیں مگر دیکھ نہ سکے مگر افسوس کہ ان لوگوں نے دیکھا مگر قبول نہ کیا۔ان کی حالت کو میں کس قوم کی حالت سے تشبیہ دوں۔ان کی نسبت یہی تمثیل ٹھیک آتی ہے کہ ایک بادشاہ نے اپنے وعدے کے موافق ایک شہر میں اپنی طرف سے ایک حاکم مقرر کر کے بھیجا تا وہ دیکھے کہ در حقیقت مطیع کون ہے اور نافرمان کون ؟ اور تا ان تمام جھگڑوں کا تصفیہ بھی ہو جائے جو ان میں واقع ہورہے ہیں۔چنانچہ وہ حاکم عین اس وقت میں جبکہ اس کے آنے کی ضرورت تھی آیا اور اس نے اپنے آقائے نامدار کا پیغام پہنچادیا اور سب لوگوں کو راہ راست کی طرف بلایا اور اپنا حکم ہونا ان پر ظاہر کر دیا لیکن وہ اسکے ملازم سرکاری ہونے کی نسبت شک میں پڑ گئے۔تب اس نے ایسے نشان دکھلائے جو ملازموں سے ہی