خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 364
خطبات طاہر جلدے 364 خطبه جمعه ۲۰ رمئی ۱۹۸۸ء صاحب نے جب توجہ دلائی تو اس وقت پھر میں نے یہی مناسب سمجھا اور ملک صاحب نے مشورہ بھی یہی دیا کہ وہاں پاکستان میں صدر انجمن کے سپرد یہ معاملہ کیا جائے کہ اس کے مختلف پہلوؤں پرغور کریں اور یہ قدغن لگا دیں کہ جس نے مجھے درخواست کرنی ہے وہ وہاں صدر انجمن کی معرفت درخواست کرے۔مجھ میں اگر طاقت نہیں انکار کی تو اُن میں نسبتاً زیادہ طاقت ہوگی وہ دیکھ لیں گے اگر کسی کو بہت زیادہ غیر معمولی طور پر مستحق سمجھیں گے تو سفارش کر دیں گے ورنہ وہ انکار کر دیں گے۔تو سر دست میں نے ملک صاحب کی سفارش کو منظور کرتے ہوئے معاملہ صدر انجمن کے سپر د کر دیا ہے۔اس دوران وہ استثنائی حق جو خلیفہ وقت کو ہوتا ہے کہ اگر کسی کے متعلق وہ غیر معمولی طور پر مطمئن ہو کہ اس کا مقام ایسا ہے، مرتبہ ایسا ہے، خدمات ایسی ہیں کہ یہ حقدار ہے کہ اس کی نماز جنازہ غائب میں خود پڑھاؤں تو وہ تو اپنی جگہ ایک حق باقی رہے گا۔اُس کا اس نئی صورت سے تعلق نہیں ہے لیکن اس کے سوا جو دوست مجھے اب لکھ رہے ہیں میری اُن سے درخواست ہے کہ سر دست لکھنا بند کر دیں۔امر واقعہ یہی ہے کہ بہت ہی زیادہ رحجان بڑھ گیا تھا اور آئندہ اس کے نتیجے میں رسم بھی پیدا ہوسکتی تھی۔حضرت خلیفہ اسیح الثانی سے مجھے یاد ہے کہ جمعہ کے بعد کوئی نماز جنازہ غائب تو نہیں پڑھایا کرتے تھے۔( کیوں ملک صاحب آپ کو یاد ہے؟ ) اور جو جنازہ بھی ہوتا تھا حاضر جنازہ ہو جاتا تھا لیکن غائب جنازہ حضرت خلیفہ اسیح الثالث کا بھی یہی طریق تھا کہ جمعہ کے بعد جنازہ پڑھانے سے پر ہیز کیا کرتے تھے اور کہہ دیا کرتے تھے کے بعد میں یا عصر کے وقت لے آؤ یا کسی اور دن دوسرے دن یا تیسرے دن۔تو استثنائی حالات کی وجہ سے جو شروع کیا تھا سلسلہ اب چونکہ قابو میں نہیں رہا۔اس لیے مجبوراً میں معذرت کے ساتھ میں اس طریق کو بدل رہا ہوں اور اُمید ہے دوست اس سے دل برداشتہ نہیں ہوں گے یعنی دل آزاری محسوس نہیں کریں گے یہ مقصد نہیں ہے مجبوری ہے۔