خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 363 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 363

خطبات طاہر جلدے 363 خطبه جمعه ۲۰ رمئی ۱۹۸۸ء کہ اب یہ رسم بنتی جا رہی ہے، بہت بڑھ رہی ہے۔اس لیے میری درخواست ہے کہ دوست اجتناب کریں۔اگر وہ مجھے لکھیں گے تو میرے لیے انکار بڑا مشکل ہے۔اس لیے آپ خود اجتناب کریں اسے ایک ایسی رسم نہ بنادیں جو ہمارے قابو میں نہ رہے۔بس زیادہ سے زیادہ میرا خیال ہے ایک دو مہینے اس نصیحت پر عمل ہوا ہو گا پھر اُس کے بعد ایک بند ٹوٹ گیا اور اس کثرت سے پھراب درخواستیں آنی شروع ہوئیں کہ جن پر عمل پیرا ممکن ہی نہیں ہے ورنہ جمعہ نماز جنازہ پڑھانے کا دوسرا نام بن جائے گا۔یہ خود میں محسوس کر رہا تھا کہ اب یہ معاملہ ہاتھ سے نکلتا چلا جا رہا ہے کہ مکرم ملک سیف الرحمان صاحب مفتی سلسلہ کو بھی یہ تحریک ہوئی۔اُس وقت یہ کینیڈا میں تھے انہوں نے مجھے لکھا کہ میں محسوس کر رہا ہوں کہ اب یہ کچھ زیادہ ہی بات بڑھتی چلی جارہی ہے۔صلى الله صلى الله جہاں تک فتویٰ کا تعلق ہے آنحضرت مہ نے حبشہ کے بادشاہ نجاشی کی نماز جنازہ غائب پڑھائی تھی اور اس لیے یہ تو نہیں کوئی کہہ سکتا کہ یہ جائز ہی نہیں ہے۔مگر مختلف علماء اور مفتیوں نے اُس سے نتیے مختلف نکالے ہیں۔بعض کے نزدیک یہ اس لیے نہیں تھا کہ اجازت ہے۔اب باقی لوگ بھی نماز جنازہ غائب پڑھ سکتے ہیں بلکہ اس لیے تھا کہ خدا تعالیٰ نے وحی کے ذریعے خاص طور پر نجاشی کی اجازت دی تھی اور یہ فعل آنحضرت ﷺ سے خاص تھا۔بعض دوسرے فقہاء کہتے ہیں کہ نہیں اگر ایسی کوئی بات ہوتی تو حضور اکرم ﷺ فرما دیتے کہ صرف میں نجاشی کی پڑھ رہا ہوں۔تمہیں اجازت نہیں ہے کیونکہ باقیوں کو منع نہیں فرمایا گیا اس لیے یہ ایک عمومیت کا حکم ہے لیکن اُن کا بھی یہی رحجان ہے کہ یہ استثنائی شکل ضرور ہے۔اجازت تو ہے لیکن استثنائی شکل ہے اور اسے عمومیت نہیں دینی چاہئے۔میری اس بات پر نظر تھی مگر میں نے چونکہ ایک استثنائی حالت ایسی دیکھی جس کا ایک وسیع علاقے سے تعلق ہے یا جس طرح نجاشی کے لیے رسول اکرمﷺ کے دل میں ایک تمنا تھی اور آپ وہاں نہیں جاسکتے تھے ، فاصلے اور حالات ایسے حائل تھے ، ویسے ہی ممکن نہیں تھا۔اس لیے یہ استثنائی بنا تو انہی حالات میں اگر استثنا زیادہ ہو جائیں تو پھر زیادہ استثنائی حالات پیدا ہو جاتے ہیں۔میرے ذہن میں یہ استدلال تھا۔اس لیے میں نے سمجھا کہ جب تک پاکستان میں نہیں جاسکتا ، پاکستان کے احمدیوں کا خصوصیت کے ساتھ یہ حق بنتا ہے کہ استثنائی حالات سمجھتے ہوئے اُن کی نماز جنازہ غائب پڑھا دیا کروں لیکن پھر بھی جیسا کہ میں نے بیان کیا تردد تھا کہ یہ بہت زیادہ رسم نہ بن جائے۔ملک