خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 353
خطبات طاہر جلدے 353 خطبه جمعه ۲۰ رمئی ۱۹۸۸ء محتاج کرتا ہے۔اسلام نے جو اس کے خلاف منصوبہ بنایا ہے وہ تین مختلف جہتوں سے تعلق رکھتا ہے۔سب سے پہلی بات یہ ہے کہ یہ جو تین مختلف جہتیں ہیں۔اخلاقیات سے بھی اس کا تعلق ہے ،نفسیات سے بھی اس کا تعلق ہے۔پہلی چیز جو قرآن کریم پیش کرتا ہے وہ یہ ہے کہ محض کسی کا پیٹ بھرنا کافی نہیں ہے اُس کی عزت نفس کے ساتھ اُس کا پیٹ بھرنا ضروری ہے اور اگر عزت نفس مجروح ہوتی ہے تو وہ پیٹ بھرنا ہے معنی ہے اور قرآن کریم کے نزدیک نیکی نہیں رہتی۔جس طرح کسی کی ضرورت پوری کر و عزت نفس کے ساتھ ضرورت پوری کرو یہ پہلی شرط لگاتا ہے۔دوسری شرط یہ لگاتا ہے کہ اُس کو یہ احساس دلاؤ کہ تم میرے محتاج نہیں ہو۔تمہارا رازق خدا تعالیٰ ہے۔میں اُس کی مرضی کی خاطر اُس کی رضا کی خاطر یہ کام کر رہا ہوں۔اس لیے تم پر میرا کوئی احسان نہیں ہے اور تم کسی پہلو سے بھی میرے تابع نہیں ہو۔یہاں تک کہ تم اگر شکریہ ادا کرتے ہو تو مجھے تکلیف ہوتی ہے کیونکہ میں سمجھتا ہوں کہ میری جزا اگر تم سے مل گئی میں تو خدا کی جزا کا طالب تھا۔اُس جزا پر اس کا بُرا اثر پڑے گا۔یہ فلسفہ ہے اس کا بنیادی۔چنانچہ جس شخص کی مدد کی جائے اُس کی عزت نفس کو قائم رکھتے ہوئے اُس کی مدد کی جائے۔یہ وہ نفسیاتی پہلو ہے جس پر قرآن کریم نے بہت زور دیا ہے کیونکہ غلامی کا آغا ز نفسیاتی غلامی سے شروع ہوتا ہے اور یہ بھی بڑا وسیع مضمون ہے۔اس کو آپ دنیا کے جس مضمون کے تعلق میں مطالعہ کریں گے۔آپ آخر اسی نتیجے پر پہنچیں گے کہ غلامی کا گہرا تعلق انسان کی نفسیاتی غلامی سے ہے۔ایک اندرونی الجھن پہلے پیدا ہوتی ہے پھر انسان غلام بنتا ہے۔چنانچہ قرآن کریم جس آزادی کا علمبردار ہے اُس میں نفسیاتی آزادی کو بہت اہمیت دیتا ہے۔کوئی شخص نفسیاتی لحاظ سے کسی دوسرے انسان کا غلام اور اُس کے تابع نہ ہو جائے۔اطاعت کے خلاف نہیں ہے یہ مضمون ، اطاعت کا مضمون بالکل مختلف ہے۔آزاد منش لوگ جن کے نفس کلیۂ آزاد ہوتے ہیں وہ بھی اطاعت کرتے ہیں دوسروں کی۔قرآن کریم سے پتا چلتا ہے کہ اطاعت یعنی خدا تعالیٰ کی صرف نہیں بلکہ حاکموں کی بھی ضروری ہے اور وہ آپ کی نفسیاتی آزادی کے خلاف نہیں ہے۔حضرت یوسف نے اپنے وقت کے بادشاہ کی اطاعت کی تھی اور یہاں تک سورۃ یوسف سے پتا چلتا ہے کہ اپنے بھائیوں کو اپنے پاس رکھنے کی بھی آپ کو استطاعت نہیں تھی لیکن قانون کو نہیں