خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 352 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 352

خطبات طاہر جلدے 352 خطبه جمعه ۲۰ رمئی ۱۹۸۸ء Society وجود میں آتی ہے جس میں انسانی قدروں کا دم گھونٹا گیا ہے اور رفتہ رفتہ ایک غیر مرئی زنجیریں ایسی ہیں جن میں انسان جکڑا جا تا ہے اور اُس کی آزادی تلف ہو جاتی ہے۔یہ مضمون بہت تفصیلی اور گہرے مطالعہ کا محتاج ہے۔لیکن جہاں جہاں بھی آپ نظر کریں گے آپ محسوس کریں گے کہ حقیقی محض اقتصادی ترقی کا پروگرام انسان کو آزادی نہیں دلا تا بلکہ واقعہ یہ ہے کہ ہر جگہ جو موجودہ اقتصادی ترقیات کے پروگرام ہیں وہ انسان کو مزید غلام بناتے چلے جار ہے ہیں۔پھر اور بھی کئی قسم کے ایسے خوفناک دھو کے ہیں اس نظام میں جو اقتصادی ترقی ہو رہی ہے اُس کے نتیجے میں False تمنا ئیں یعنی جھوٹی اُمیدیں، جھوٹی تمنائیں پیدا کی جاتی ہیں ، خواہشات پیدا کی جاتی ہیں تا کہ قوم اپنی بعض خواہشات کی غلام بن کر بعض امیر سرمایہ کاروں کی بنائی ہوئی چیزیں خریدنے پر مجبور ہوں۔اس وقت یورپ جس طرح Pop_music کا غلام بن گیا ہے یاWest کہنا چاہئے سارا ہی تقریباً۔East میں بھی اب اس کے اثرات بڑے نمایاں طور پر ظاہر ہو رہے ہیں۔غریب ملکوں میں بھی ظاہر ہورہے ہیں ان کے پیچھے بھی بڑے بھاری Rackets ہیں ، بہت بڑے بڑے سرمائے ہیں جو پہلے عوام کا مزاج خراب کرتے ہیں اور مذاق بدلتے ہیں اور اُس مذاق کو بگاڑ کر وہ چیزیں Market کرتے ہیں جو اس بگڑے ہوئے مذاق کی طلب پورا کرنے کے لیے بنائی جاتی ہیں اور اس ضمن میں بھی اب ان کے باشعور لوگ خود محسوس کرنے لگے ہیں کہ ہم دن بدن سرمایہ کاری کی مختلف شکلوں اور صورتوں میں جکڑے جا رہے ہیں اور یہ مختلف شکلیں خواہ کسی پہلو سے ظاہر ہوں بھیانک ہیں اور مکروہ ہیں لیکن بہت حسین نقاب انہوں نے اوڑھے ہوئے ہیں۔تو یہ مضمون بہت تفصیلی اور گہرے مطالعہ کا محتاج ہے۔آخری نتیجہ وہی نکلتا ہے کہ اقتصادی ترقی کا پروگرام فی ذاتہ مقصود نہیں ہے۔غریب کو امیر بنانافی ذاتہ مقصود نہیں ہے۔قرآن کریم کا فلسفہ اس سے بالکل مختلف ہے۔قرآن کریم کہتا ہے آزادی ہے بنیادی چیز ، آزادی کے بغیر انسان کو تسکین نصیب نہیں ہو سکتی۔وہ کام کرو جس کے نتیجے میں قومیں آزاد ہوں اور نفس آزاد ہوں ، جماعتیں آزاد ہوں اور افراد آزاد ہوں اور اُس آزادی کی جد وجہد میں یا درکھنا کہ غربت بھی غلامی کا ایک ذریعہ ہے۔غربت بھی غلامی کی زنجیروں کا ایک نام ہے اور بے سہارا ہونا یہ بھی انسان کے کردار کو بگاڑتا ہے اور دوسرے کا