خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 354 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 354

خطبات طاہر جلدے 354 خطبه جمعه ۲۰ رمئی ۱۹۸۸ء تو ڑا لیکن اُس کے باوجود آپ کا نفس آزاد تھا کسی نفسیاتی الجھن کے آپ شکار نہیں تھے۔یہ وہ مضمون ہے جس کو اس پہلو سے سمجھیں گے تو آپ کو سمجھ آئے گی کہ قرآن کریم جب نفسیاتی آزادی کی بات کرتا ہے تو اُس سے کیا مراد ہے۔بہر حال یہ مزید غور طلب باتیں ہیں۔اس سلسلے میں لمبی باتیں کرنے کا وقت نہیں اس لیے میں اب دوسرا پہلو بیان کرتا ہوں۔دوسرا پہلو اللہ تعالیٰ قناعت پر زور دیتا ہے اور یہ وہ مضمون ہے جس سے دنیا بالکل آشنا ہی نہیں ہے بلکہ سرمایہ کاری کے نظام کے بالکل مخالفانہ پروگرام ہیں۔قرآن کریم کی تعلیم سے پتا چلتا ہے کہ انسان کے اندر جو بے پناہ طلب کا جذبہ پایا جاتا ہے۔اُس کو قرآن کریم لگا میں پہنا تا ہے،اُسے کنٹرول میں لاتا ہے اور اُس کے ذریعے انسان کو آزادی دلاتا ہے۔چنانچہ یہ عین ممکن ہے کہ ایک شخص غریب ہو لیکن قناعت کے ذریعے وہ دوسرے سے آزاد ہو جائے۔بسا اوقات ایسے غریب ملتے ہیں جن کی غربت اُن کو مزید غلام بناتی چلی جاتی ہے اپنے حرص و ہوا کے نتیجے میں پہلے وہ نفس کے غلام بنتے ہیں پھر ہر دوسرے کا غلام بن جاتے ہیں۔پس غلامی کے فلسفے میں اس بات کو بہت گہرا دخل ہے۔جب میں نے کہا کہ اپنے نفس کو آزاد کرو تو اُس سے یہ مراد تھی کہ وہ شخص جو خود حرص و ہوا کا شکار ہے۔جس کی طلب کی کوئی حد نہیں ہے وہ دوسرے کو آزاد کروا ہی نہیں سکتا کیونکہ خود بھی وہ دوسروں کا غلام بن جاتا ہے۔چنانچہ قرآن کریم فرماتا ہے کہ تم قناعت پیدا کرو۔اگر تمہیں اپنی مرضی کی چیزیں میسر نہیں تو اپنی مرضی کی شاخ تراشی شروع کر دو اور جہاں تک ممکن ہے اپنی مرضی کو کم کرتے چلے جاؤ اور مستغنی ہوتے چلے جاؤ۔چنانچہ آنحضرت ﷺ نے ایک موقع پر فرمایا کہ اصل غنی دولت کے ذریعے یا جائیداد کے ذریعے نصیب نہیں ہوتی۔اصل غنی غنی النفس ہے۔( بخاری کتاب الرقاق حدیث نمبر: ۵۹۶۵) یعنی اگر نفس غنی ہو جائے دوسرے لفظوں میں کہیں گے کہ مستغنی ہو جائے تو دولت نصیب ہو جاتی ہے۔حضرت خلیفتہ المسیح الاوّل نے جو واقعہ بیان کیا بڑا دلچسپ ہے جو میں پہلے بھی کئی دفعہ بیان کر چکا ہوں۔اُس کا اسی مضمون سے تعلق ہے۔ایک دفعہ جب مہاراجہ جموں کشمیر کے ہاں کام کیا کرتے تھے یعنی شاہی طبیب تھے سیر کے دوران آپ نے ایک ایسے فقیر کو دیکھا جو ایک لنگوٹے میں رہا کرتا تھا بہت ہی غریبانہ حالت تھی۔لیکن اُس دن وہ خوشی سے اُچھل رہا تھا اور بڑے بڑے