خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 311 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 311

خطبات طاہر جلدے الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں۔311 خطبه جمعه ۶ رمئی ۱۹۸۸ء پس استغفار کیا چیز ہے یہ اُس آلہ کی مانند ہے جس کی راہ سے طاقت اُترتی ہے۔تمام راز تو حید کا اسی اصول سے وابستہ ہے کہ صفت عصمت کو انسان کی ایک مستقل جائیداد قرار نہ دیا جائے۔“ اس لیے یہ خیال کہ انبیاء بھی صفت عصمت ذاتی جائیداد کے طور پر رکھتے ہیں یہ باطل خیال ہے۔اللہ تعالیٰ کی طرف سے نہ صرف یہ کہ صفت عصمت اُن کو عطا ہوتی ہے بلکہ اس صفت کی حفاظت کے لیے ،اس کے دوام کے لیے، اس کے استقرار کے لیے انبیاء کو مسلسل جد و جہد کرنی پڑتی ہے۔ریاضتیں کرنی پڑتی ہیں ، عبادتیں کرنی پڑتی ہیں۔اس لیے انبیاء کا استغفار اپنی مستقبل کی مناسبت سے ہوتا ہے۔وہ جانتے ہیں کہ صفت عصمت اُن کی ذاتی جائیداد نہیں ہے، ذاتی ملکیت نہیں ہے۔پس اُن کو خدا کی عطا کو سنبھالنے ، اُس کی قدر کرنے کے لیے بہت محنت کرنی پڑتی ہے اور اُس سے ادنی درجہ کے جتنے انسان ہیں۔اُن کو جتنی بھی عصمت نصیب ہوتی ہے کسی کو ایک گناہ سے عصمت نصیب ہوتی ہے کسی کو دوسرے گناہ سے عصمت نصیب ہوتی ہے۔اُس کو چاہیے کہ اُس کی حفاظت کے لیے بھی وہ اسی طرح کوشش کرے۔یہ وہ مضمون ہے جو اس تحریر سے ظاہر ہوتا ہے جسے ہمیں سمجھنا ضروری ہے۔عصمت گلی تو انبیاء کا حصہ ہے اور دیگر انسان جتنے ہیں ان کو بھی خدا ہی سے عصمت ملتی ہے۔بعض دفعہ پیدائشی عصمت نصیب ہوتی ہے۔بعض دفعہ ماحول میں رفتہ رفتہ آزمائشوں کے ذریعے عصمت عطا ہوتی ہے لیکن جس قسم کی بھی عصمت ہے وہ انبیاء کے علاوہ باقی انسانوں کو جزوی ہے۔چنانچہ آپ نے دیکھا ہوگا کہ بعض لوگ بعض گناہوں سے پوری طرح بچنے کی اہلیت تو رکھتے ہیں اور استطاعت رکھتے ہیں اُن کو اُس بارے میں کوئی خوف نہیں ہوتا۔بعض دوسرے گناہوں کے معاملے میں وہ بالکل کمزور ثابت ہوتے ہیں۔اس لیے جب آپ نیکوں کی زندگی کا اپنے گردو پیش میں مطالعہ کریں گے تو آپ حیران ہوں گے یہ دیکھ کر کہ عصمت گلی کسی کو بھی نصیب نہیں۔کوئی اور نہیں تو اپنی زبان کی تختی کی مار کھا جاتا ہے اور نیکی کے تقاضوں کے خلاف وہ بعض دفعہ اُس کی زبان میں بد کلامی داخل ہو جاتی ہے۔بعض بخشش کے معاملے میں کمی دکھاتے ہیں، بعض اپنے خود پرستی کی کئی قسم کی بیماریوں کا شکار ہو جاتے ہیں۔جن کا تعلق خود پرستی سے ہے اور وہ ان کی روز مرہ کی زندگی میں