خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 312
خطبات طاہر جلدے 312 خطبه جمعه ۶ رمئی ۱۹۸۸ء مختلف صورتوں میں ظاہر ہوتی رہتی ہے اور اُن کو پتا نہیں ہوتا۔تو عصمت کا جو مضمون ہے وہ بھی بہت ہی غور سے سمجھنے کے لائق ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بحیثیت عارف باللہ جونکتہ بیان کر دیا جو جان ہے اس مضمون کی وہ یہ ہے کہ عصمت خدا کی طرف سے نصیب ہوتی ہے اور کسی کی ذاتی جائیداد نہیں۔جس کا مطلب یہ ہے کہ اگر آپ اپنی عصمت کی حفاظت نہیں کریں گے اور خدا سے مزید عصمت نہیں طلب کریں گے۔تو جن جگہوں پہ آپ کو عصمت نصیب ہے وہ بھی رفتہ رفتہ نقصان کا شکار ہو سکتی ہے۔جس طرح بعض دفعہ طغیانی میں خشک حصوں پر بھی پانی چڑھ جاتا ہے۔اسی طرح گناہوں میں بھی بعض دفعہ طغیانی کے دن آتے ہیں طغیانی کے ماحول پیدا ہو جاتے ہیں اور جن لوگوں کو عصمت نصیب نہ ہو ان کو کوئی کشتی اُس سیل سے نہیں بچاسکتی کیونکہ پھر فطرت کے ہر حصے پر گناہ کی طغیانی غلبہ پا جاتی ہے۔پس عصمت کی حفاظت کے لیے استغفار کی ضرورت ہے۔فرمایا تمام راز توحید کا اسی اصول میں ہے۔آپ دیکھیں کتنی گہری بات ہے۔فرمایا تو حید کاملہ کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ خدا ہی ہے جو نیک ہے۔جس طرح حضرت مسیح نے کہا کہ وہی ایک ہے جو نیک ہے اور کوئی نیک نہیں۔یہ مراد ہے نیکی کی ، اُس کے اکیلا نیک ہونے سے یہ مراد ہے کہ کسی اور کی نیکی اس کی ذاتی ملکیت نہیں خدا ہی کی طرف سے نیکی عطا ہوتی ہے اور جو تو حید کامل کے مضمون کو سمجھ جاتا ہے وہ اپنی عصمت کی طلب خدا سے کرتا ہے اور عصمت مانگنے کے لیے استغفار کی ضرورت ہے۔فرمایا: بلکہ اس کے حصول کے لیے محض خدا کو سر چشمہ سمجھا جائے۔ذات باری تعالیٰ کو تمثیل کے طور پر دل سے مشابہت ہے جس میں مصفی خون کا ذخیرہ جمع رہتا ہے اور انسان کامل کا استغفار ان شرائن اور عروق کی مانند ہے جو دل کے ساتھ پیوستہ ہیں اور خون صافی اُس میں سے کھینچتی ہیں اور تمام اعضاء پر تقسیم کرتی ہیں جو خون کی محتاج ہیں۔‘ ریویو آف ریلیجنز ار دوجلد اول صفحہ: ۱۹۵) ایک اور عصمت کا مضمون حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے یہ بیان فرمایا کہ عصمت کو اپنے ہر گناہ کی عصمت کو صاف رکھنے کی ضرورت پڑتی ہے۔جس طرح آپ کو بدن کی صفائی کی ضرورت پڑتی ہے، آپ کو گھر کی صفائی کی ضرورت پڑتی ہے، ہر قسم کی میل اُس پر آتی رہتی ہے اور اُس سے زیادہ گہری بات آپ نے یہ بیان فرمائی کہ تمہارے خون کی بھی صفائی کی ضرورت ہے جس کا عام