خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 252
خطبات طاہر جلدے 252 خطبه جمعه ۱۵ارا پریل ۱۹۸۸ء ہو جائے اسے رؤیت کا مقام ہو گا۔اسی وجہ سے جماعت احمدیہ کا یہ مسلک ہے کہ جغرافیہ دانوں نے جب ترقی کر کے زائچوں کے ذریعے نہیں بلکہ ایک وسیع رؤیت کے تجربے کے ذریعے قطعی طور پر یہ معلوم کر لیا ہے کہ فلاں دن چاند اس حد تک افق سے اونچا ہوگا کہ اگر بادل نہ ہوں تو یقیناً نظر آ جائے گا۔اس اندازہ کو قطعیت کا حکم ہے، یہ شہادت کا رتبہ رکھنے والا اندازہ ہے۔اس لئے جماعت احمد یہ ایسے اندازہ کو شہادت ہی قرار دیتی ہے اور اس سے اختلاف کرنے کے نتیجہ میں بہت سی خرابیاں پیدا ہوتی ہیں۔خود انگلستان میں ہی ایک ایک شہر میں جہاں جماعت کی برکت حاصل نہیں ہے لوگوں کو ، جماعت احمدیہ سے منسلک ہونے کی برکت حاصل نہیں ہے۔چار چار، پانچ پانچ الگ الگ عید میں ہو رہی ہوتی ہیں اور رمضان کے شروع ہونے کے بھی دو تین ہوتے ہیں۔کسی نے ایک دن پہلے رکھا، کسی نے صحیح دن رکھا، کسی نے ایک دن بعد رکھا۔تو یہ جو سارے تفرقے ہیں یہ بتارہے ہیں کہ شہادت ان کے پاس نہیں ہے۔یعنی شہادت اگر ہوتی تو تفرقہ ہو ہی نہیں سکتا تھا۔شہادت میں ایک یہ بھی مضمون پایا جاتا ہے جس کے نتیجہ میں تفرقہ ہونا ہی نہیں چاہئے۔تفرقہ اور شہادت اکٹھے نہیں رہ سکتے کیونکہ تفرقہ شبہ کے نتیجہ میں ہے اور شہادت ایک قطعی چیز ہے۔پس رمضان کا چاند ہو یا عید کا چاند ہو شھد کا مفہوم یہی ہوگا کہ جب تمہیں قطعی طور پر معلوم ہو جائے کہ چاند نکل آیا ہے تو پھر اگر رمضان آنے والا ہے تو روزے شروع کرو اور اگر عید کا دن آنے والا ہے تو عید شروع کرو اور قطعیت میں اندازہ کی قطعیت کو بھی رسول کریم ﷺ نے شامل فرما دیا۔یہ تو ایک مسئلے سے تعلق رکھنے والی بات ہے۔اب میں آگے چلتا ہوں دوسرے مضمون کی طرف۔وَمَنْ كَانَ مَرِيضًا أَوْ عَلَى سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِنْ أَيَّامٍ أُخَرَ جو کوئی مریض ہویا سفر پہ ہو اس کے لئے دوسرے بعد کے ایام میں روزے رکھنے ہیں۔اس میں کسی اور تیسرے شخص کو اجازت نہیں ہے روزہ چھوڑنے کی اور یوں مضمون بیان ہوا ہے جیسے کوئی سوال ہی نہیں پیدا ہوتا کوئی اور شخص روزہ چھوڑنے کی بات بھی سوچے گا۔فرمایا وَ مَنْ كَانَ مَرِيضًا أَوْ عَلَىٰ سَفَرٍ بس دو ہی صورتیں ہیں پھر روزہ چھوڑنے کی۔رمضان شروع ہو گیا، خدا نے فرض کر دیا۔یہ کیسے ممکن ہے کہ کوئی مومن چھوڑنے کی بات کرے سوائے اس کے کہ اس کو اجازت دی جائے اور اجازت صرف ان دو صورتوں میں ہے۔لیکن جیسا کہ میں نے گزشتہ سال بھی توجہ دلائی تھی جماعت احمدیہ میں روزے کا