خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 253
خطبات طاہر جلدے 253 خطبه جمعه ۵ اراپریل ۱۹۸۸ء معیار اتنا بلند نہیں جتنا بعض صورتوں میں اور بعض علاقوں میں غیر احمد یوں میں ہے۔ان میں تو یہاں تک بعض علاقوں میں سختی پائی جاتی ہے کہ سارا سال اگر نماز نہیں پڑھیں گے تو روزہ ضرور رکھیں گے۔بعض لوگ شراب پیتے ہیں، شراب سے روزے کی ابتداء کرتے ہیں اور شراب سے افطاری کرتے ہیں لیکن روزہ نہیں چھوڑتے اور بعض جگہ تو اتنی سختی کی جاتی ہے کہ منہ میں مٹی ڈالتے ہیں اگر کوئی بیہوش ہو جائے۔اگر وہ مٹی خشک باہر نکل آئے تو پھر اس کو پانی پلائیں گے اور اگر ذراسی بھی نمی ہو اس میں تو کہتے ہیں ابھی تک اس کو یہ حق نہیں ہے کہ اس کو پانی دیا جائے یا بیہوشی میں ہی جان دے دے۔جماعت احمد یہ تو افراط تفریط سے پاک ہے کیونکہ خود اسلام افراط تفریط سے پاک ہے۔جماعت احمد یہ تو اوسط پر قدم رکھنے والی جماعت ہے۔یعنی جو متوسط طریق ہے اس کو اختیار کرتی ہے۔لیکن متوسط طریق وہی ہے جو قرآن نے بیان فرمایا ہے۔متوسط طریق یہ بیان کیا ہے کہ سوائے ان دو انتہاؤں کے کہ تم مریض ہو یا سفر پہ ہوتم پر روزہ فرض ہے۔بیچ کی راہ صرف روزے کی راہ ہے۔اس لئے اگر کوئی مومن خدا تعالیٰ پر ایمان کا دعوی کرتا ہو، واقعی ایمان لاتا ہو اس پر روزہ ضروری ہے۔خصوصاً انگلستان کی جماعت یا امریکہ کی جماعت یا یورپ میں بسنے والے دیگر جماعتوں کے لئے بہت ہی ضروری ہے کہ روزے کے او پر خصوصیت سے توجہ دیں۔ہماری نئی نسلیں روزے کو بالکل ہلکا پھلکا لیتی ہیں اور نئی نسلوں کے بد قسمتی سے ماں باپ بھی ہلکا پھل کا لیتے ہیں تخفیف کی نظر سے دیکھ رہے ہیں گویا کہ ان کے نزدیک یہ بات زیادہ اہم ہے کہ بچہ پڑھائی کر رہا ہے اس کی پڑھائی پر برا اثر نہ پڑھے۔حالانکہ وہ ٹیلی ویژن میں ہزار وقت ضائع کر رہا ہو، ہر قسم کی بیہودہ دلچسپیوں میں حصہ لیتا ہو اس سے ان کو کوئی فرق نہیں پڑتا لیکن روزے کے وقت ان کو اتنی شدت سے احساس ہوتا ہے کہیں اس کی صحت نہ کمزور ہو جائے اور ہر دوسری صحت کمزور کرنے والی عادتیں اس میں ہوں اس سے وہ فکر مند نہیں ہوتے۔ایک روزہ ہی بے چارہ رہ گیا ہے جس سے ساری صحت برباد ہو جائے گی اور پڑھائی پر برا اثر پڑے گا۔بالکل غلط بات ہے محض وہم ہے، قطعاً کوئی اثر برا روزے کے نتیجہ میں پڑھائی پر نہیں پڑتا بلکہ جو لوگ نہیں پڑھنے والے ہیں وہ بھی رمضان میں زیادہ پڑھ لیتے ہیں۔خود میں بھی ایسے طالب علموں میں سے تھا جو بہت کم اپنے کورس کی کتابیں پڑھتا تھا لیکن رمضان میں مجھے زیادہ موقع ملتا تھا کیونکہ اور کوئی دلچسپیاں نہیں قرآن کریم پڑھنا ہے یا دینی مطالعہ