خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 251
خطبات طاہر جلدے 251 خطبه جمعه ۵ اراپریل ۱۹۸۸ء رؤیت ہی کی قسمیں ہیں۔چنانچہ ان آلات کے استعمال کو اور جدید سائنسی دریافتوں کو آپ نے رؤیت سے خارج نہیں فرمایا بلکہ زائچوں کو اور تخمینوں اور اندازوں کو غلط قرار دیا ہے۔آپ نے فرمایا اندازے کے صرف اسی وقت اجازت ہو گی جبکہ دوسرے قطعی ذرائع میسر نہ ہوں۔(سرمہ چشم آریہ روحانی خزائن جلد ۲ صفحہ ۱۹۲۰ ۱۹۳) چنانچہ آج کل بھی یہ بحث اٹھائی جا رہی ہے کہ رویت کیا ہے۔ایک طرف تو علماء اس حد تک رؤیت کی پیروی کرتے ہیں کہ اس کے اصل جو مضمون ہے رؤیت کا اس کو بالکل باطل کر دیتے ہیں۔یعنی جغرافیہ دانوں کے سائنسی تخمینوں کو رد کر دیتے ہیں لیکن رؤیت کی خاطر ہوائی جہازوں پر چڑھ کر اتنی بلندی تک پہنچ جاتے ہیں کہ افق ہی بدل جاتا ہے بالکل۔یعنی اس جگہ کا وہ افق ہوتا ہی نہیں جس جگہ سے جب وہ اوپر چڑھ کر دیکھ رہے ہوتے ہیں چاند کو تو وہ در حقیقت کسی اور ملک کے افق کا چاند دیکھ رہے ہیں اپنے ملک کا چاند دیکھ ہی نہیں رہے۔اس لئے معقولیت کو اختیار کرنا چاہئے، روح کو سمجھنا چاہئے پیغام کی۔شہد سے مراد صرف اتنا ہے در حقیقت کہ جب تمہیں قطعی طور پر علم ہو جائے اس وقت شروع کرو اور توہمات میں مبتلا نہ ہو۔چنانچہ دوسری حدیثوں سے اسی مضمون کی وضاحت ملتی ہے۔حضرت رسول اکرم ﷺ نے فرمایا کہ اگر چاند دکھائی نہیں دیتا تو وہموں میں مبتلا ہوکر پہلا روزہ نہیں رکھنا۔(مسلم کتاب الصیام حدیث نمبر : ۱۷۹۶) چنانچہ بعض دفعہ اس زمانے میں بعض لوگ ایک دن یا دو دن پہلے روزے شروع کر دیا کرتے تھے کہ کہیں یہ نہ ہو کہ چاند نکل آیا ہو اور ہم روزے سے محروم رہے جائیں۔تو حضور اکرم ﷺ نے فرمایا کہ ہر گز تو ہمات میں مبتلا ہوکر روزہ نہیں رکھنا شہد کا حکم ہے۔یعنی قطعیت کا جب علم ہو جائے کہ چاند نکلا ہے تو رکھو ورنہ نہیں اور انداز ہ کا مفہوم اس وقت فرمایا جب کہ انتیس واں دن گزر چکا ہو اور پھر بھی چاند دکھائی نہ دے۔اس پر آپ نے قدر و اکا ارشاد فرمایا( بخاری کتاب الصوم حدیث نمبر : ۱۷۶۷)۔جس کا مطلب یہ ہے کہ تمہیں پتا ہی ہے کہ میں سے زیادہ تو مہینہ ہوتا ہی نہیں اس لئے وہاں شہد سے مراد وہاں بھی دیکھنا نہیں ہوگا بلکہ قطعیت ہی ہے۔بظاہر لفظ قدّروا استعمال فرمایا ہے لیکن مفہوم وہی بنتا ہے کہ قرآن کریم نے جب شھد کا لفظ فرمایا تو مراد ہے کہ قطعی طور پر علم ہو جائے چونکہ تم چاند نہیں دیکھ سکے اس لئے تمہیں اب اندازہ سے بھی قطعی علم ہوسکتا ہے۔اب اس میں ایک اور مضمون ہمارے لئے کھول دیا ہے۔تقدیر کے ذریعے جو علم قطعی حاصل