خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 232
خطبات طاہر جلدے 232 خطبه جمعه ۸ / اپریل ۱۹۸۸ء غریبوں کے پاس تو پہنچا کرتے تھے ، ہنگاموں کے لئے ان کو اکسانے کی خاطر تو ان کو تلقین کیا کرتے تھے لیکن جب ضرورت پڑی، جب ان کے سر ننگے ہو گئے اس وقت ان سروں کو ڈھانپنے کے لئے وہاں کوئی نہیں پہنچا۔چنانچہ اس وقت مجھے یاد ہے کہ میں قائد خدام الاحمد یہ ربوہ تھا۔حضرت مصلح موعودؓ نے مجھے بلایا اور وہ سارا جو نارمل طریق ہے صدر کی معرفت پہنچنا وہ سب نظر انداز فرما دیا۔اور مجھے کہا میں تمہیں خود ہدایت دینا چاہتا ہوں فوری انتظام کرو اور اس کام کو بہر حال کرنا ہے اور اس سلسلے میں جوضرور تیں ہیں براہ راست مجھے بتاؤ، کوئی ضرورت نہیں کسی اور انتظامی رستے کو اختیار کرنے کی۔اس ضمن میں میں یہ بتا دوں کہ جب نیچے سے اوپر چیز حرکت کرتی ہے تو انتظامی رستہ اختیار کرنا ضروری ہوا کرتا ہے۔اس سے کوئی غلط اندازہ نہ نکالے یا غلط نتیجہ نہ نکالے۔جو اوپر کا افسر ہے اسے حق حاصل ہوتا ہے کہ حسب ضرورت عام حالات کے علاوہ جب استثنائی حالات دیکھے تو درمیانی رستے کو نظر انداز کر دے۔اس بات کو نہ سمجھنے کے نتیجے میں بسا اوقات انتظامی طور پر اعتراضات میرے سامنے آتے رہتے ہیں کہ فلاں افسر تھا اس نے میرے ماتحت افسر سے براہ راست رابطہ کیا اور مجھے نظر انداز کر دیا۔اگر تو ایسا کرنے میں کوئی بد نیتی شامل ہو تو یہ جرم بن جاتا ہے، نہایت ہی ناپسندیدہ بات ہے لیکن یہ کہنا کہ افسر بالا کو اختیار نہیں ہے، یہ غلط بات ہے۔اس لئے یہ دیکھنا میرا فرض ہوتا ہے ایسے موقع پر کہ اس میں کوئی بدنیتی یا شرارت یا کسی کو نیچا دکھانا تو مراد نہیں تھی اور اگر یہ بات ثابت نہ ہو بلکہ معلوم ہو کہ واقعۂ ضرورت تھی تو پھر ہرگز ایسے افسر پر کوئی اعتراض نہیں۔چنانچہ اس بنیادی اصول کو حضرت مصلح موعودؓ سب سے بہتر سمجھتے تھے اور ہمیشہ اسی طرح آپ نے عمل فرمایا ہے۔اسی وجہ سے آپ نے مجھے اس وقت فوری بلایا اور کہا کہ تم نے تمام راجوں سے جور بوہ میں راجگیر ہیں ان سے اپیل کرنی ہے کہ اپنے آپ کو غریبوں کے گھر بنانے کے لئے مفت پیش کر دیں اور جب تک جماعت ان کو چاہتی ہے وہ خدمت کریں۔عموماً خیال تھا کہ ہفتہ کے اندر ہو گا چنانچہ پھر کم و بیش اسی عرصے میں ہی ہمارا کام مکمل ہو گیا تھا اور لاہور کے خدام کو ہدایت کرو اور ربوہ کے مزدور طبقہ خدام کو ہدایت کرو کہ وہ جتنے ساتھ جا سکتے ہیں وہاں جائیں اور سامان کی جو قیمت ہے وہ میں مہیا کروں گا لیکن کام سارا تم لوگوں نے خود کرنا ہے اور وہاں جا کے ان کی بستی کو دوبارہ آباد کرنا ہے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس کثرت سے لبیک کہا ہمارے راج گیروں نے اور لکڑی