خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 231 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 231

خطبات طاہر جلدے 231 خطبه جمعه ۸ / اپریل ۱۹۸۸ء یہیں رہیں گے۔چنانچہ اللہ تعالی کے فضل سے ان کو موقع ملتا رہا اور ان کے ساتھ خدام نے جو محنت کی ہے وہ ایک لمبی داستان ہے۔جنہوں نے دیکھا ہے اور مجھے تاثر بیان کئے ہیں وہ کہتے ہیں کہ حیرت ہوتی تھی کس طرح یہ لوگ کام کر رہے ہیں۔بہت ہی غیر معمولی ہمت اور استقلال کے ساتھ پینٹنگ بھی پھر سب خود کی اور آج یہ عمارت اللہ تعالیٰ کے فضل سے ایک بالکل نئی شکل میں ، ایک انفرادی شکل میں ہمارے سامنے ظاہر ہوئی ہے اور پہچانا نہیں جاتا کہ یہ وہی عمارت ہے۔اوپر میرے لئے جہاں رہائش کا انتظام ہے ، بیوی بھی کہہ رہی تھیں جو میرے ساتھ آئی تھیں پچھلی دفعہ بھی کہ یہ وہی عمارت ہے جس میں ہم پہلے آئے تھے، کوئی نسبت نہیں۔وہ تو ماحول ہی بڑھا گھنٹا ہواسا اور بد بو اس وقت بھی تھی لیکن بعد میں جب اکھیڑا گیا گندے حصے کو تو بتایا گیا ہے کہ سخت تعفن پھیل گیا ہے سارے۔بہر حال اللہ تعالیٰ نے ان سب کو توفیق بخشی اور بہت ہی ایک یادگار خدمت دین کی توفیق عطا فرمائی۔چنانچہ اگر چہ اس عمارت کا افتتاح رسمی طور پر اس سے بہت پہلے ہو چکا ہے لیکن اس خدمت کو خراج تحسین دینے کے لئے میں نے خود اس خواہش کا اظہار کیا کہ اس نئی عمارت کا از سر نو افتتاح کیا جائے اور وہ سب خدام اور انصار اور بچے جنہوں نے محنت کی ہے ان کے ساتھ اکٹھی تصویر کھنچوائی جائے جسے یہاں آویزاں کیا جائے۔اس کے ساتھ ہی مجھے ان امور پر غور کرتے ہوئے ایک اور بھی خیال آیا کہ ہم جو صد سالہ جشن منا رہے ہیں اس میں ایک بہت اہم جماعت کے امتیازی نشانوں میں سے ایک ایسی چیز ہے جسے پیش کرنا چاہئے اور وہ وقار عمل ہے۔آج ساری دنیا میں کسی مذہبی یا سیاسی جماعت کو خدا نے یہ توفیق نہیں بخشی کہ گزشتہ پچاس سال سے زائد عرصہ سے کوئی اس طرح لگن کے ساتھ مسلسل وقار عمل کے ذریعے اپنے کام خود کرتی ہو اور نہ صرف اپنے کام بلکہ دوسروں کے کام بھی کرتی ہو۔بازاروں کو صاف کرنا ، گندے گڑھوں کو دور کرنا اور کئی قسم کے ایسے کام ہیں جو شہری اور دیہاتی ضروریات کے کام ہیں۔پاکستان اور ہندوستان میں بھی جماعت نے اس سلسلے میں عظیم الشان خدمات سرانجام دی ہوئی ہیں۔پھر سیلابوں کے دنوں میں سخت عذاب کی صورت پیدا ہو جاتی ہے بعض دفعہ۔چنانچہ لاہور میں ایک دفعہ اتنے بڑے سیلاب آئے ، اتنی بارشیں ہوئیں کہ بعض غرباء کی بستیوں کی بستیاں بالکل تباہ ہو گئیں اور کوئی ان کے سر چھپانے کی جگہ نہیں تھی۔نہ حکومت کی طرف سے انتظام تھا نہ اردگر کسی اور کی طرف سے ہمدردی کا اظہار تھا اور ساتھ ہی اس علاقے میں جماعت اسلامی کا مرکز تھا۔وہ صرف نفرت کی تعلیم دینے کے لئے ان