خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 233
خطبات طاہر جلدے 233 خطبه جمعه ۸ / اپریل ۱۹۸۸ء کے کام کرنے والوں نے ، مزدوروں نے ، لاہور کے خدام بڑی کثرت سے آئے اور وہاں اتنی رونق لگ گئی دیکھتے دیکھتے گری ہوئی بستی اٹھ کھڑی ہوئی اور ان لوگوں کے حوصلے بھی ساتھ بلند ہوئے۔حیران ہو کے آئے کہ کیا ہو رہا ہے ہمارے ساتھ اور کثرت کے ساتھ لوگوں نے کہا کہ اگر اسلام یہ ہے تو پھر واقعہ یہی اسلام ہے ورنہ وہ اسلامی جماعت ہمارے ساتھ ہی ہے اس میں سے کسی نے جھوٹے منہ بھی نہیں پوچھا کہ تمہارا حال کیا ہے؟ لوگوں گھر برباد کرانے کے لئے ہمارے پاس آتے ہیں مدد کے لئے ، جب ہمارے گھر گرے اور منہدم ہوئے اس وقت ان کو کھڑا کرنے کے لئے کوئی نہیں آیا ان میں سے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس کا بہت ہی غیر معمولی طور پر نیک اثر پہنچا۔اس لئے جماعت کے ہر طبقے میں یہ روح راج گیری کرنے والوں میں اور ترکھانوں میں اور ہر قسم کے طبقے میں جب وقار عمل کے نام پر اپیل کی جاتی ہے تو سارے اپنے پیشوں کے فرق کو ، اپنی ضرویات کو سب کچھ بھلا دیتے ہیں اور فن کی قیمت نہیں مانگتے بلکہ حسب ضرورت جو ان کی زندگی کے لئے گزراوقات کا وظیفہ ہے وہ جنتنا دے دیں اسی پر راضی ہو جاتے ہیں اور نہ بھی دیں تو کوئی ایسے مواقع بھی ہیں جنہوں نے جیسا کہ میں نے بیان کیا وہاں مفت کام کیا ہے اور صرف روٹی اور کھانا جوسب خدام کو ملتا ہے وہ ساتھ میں ان کو بھی ملتارہا۔اس خیال کے ساتھ مجھے خیال آیا کہ یہ تو بہت ہی ایک عظیم الشان امتیازی نشان ہے جسے صد سالہ جو بلی میں پیش کرنا چاہئے۔چنانچہ اس کے لئے میں نے ہدایت کر دی ہے مرکز میں بھی، قادیان بھی لکھا گیا ہے اور جماعتوں کو بھی کہ جہاں جہاں کوئی نمایاں خدمت خدام الاحمدیہ کے ذریعے یا جماعت کی طرف سے وقار عمل سے کام ہوئے ہیں اگر ان کی تصویریں موجود ہیں تو وہ مہیا کریں تا کہ ہم صد سالہ جو بلی کے تحائف میں ایک یہ تحفہ بھی رکھیں۔اسی دنیا میں جوار بوں کی دنیا ہے اور سارا انحصار حکومتوں پر یا دوسرے ایسے ذرائع پر ہے جہاں پیسہ اور خدمت کہیں اور سے آئے اور کچھ لوگ انحصار کر کے بیٹھے رہیں کہ ہمیں ملے تو ہم کچھ فائدہ اٹھائیں۔بالکل برعکس ایک رو خدمت دین کی جماعت احمدیہ میں چلی ہے کہ اپنے طور پر خود کفیل بھی ہیں اور حد سے زیادہ محنت کر کے بہت عظیم الشان کام کرتے ہیں اور اس کے نتیجہ میں جو جماعت کو روپیہ بچتا ہے وہ جب میں آپ سے بیان کروں گا تو آپ حیران ہوں گے کہ کیسے ممکن ہے کہ اتنا زیادہ روپیہ وقارعمل کے ذریعہ بچایا جاسکتا ہے لیکن یہی نہیں بلکہ پھر وہ دوسروں کی خدمت پر بھی تیار ہیں اور جولوگ وقت آنے پر ان کو گالیاں دیتے