خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 18 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 18

خطبات طاہر جلدے 18 خطبه جمعه یکم جنوری ۱۹۸۸ء احساس ہو کہ اجتماع کا کوئی موقع اس نے ہاتھ سے کھو دیا ہے، اجتماعیت کی برکت سے وہ محروم رہ گیا ہے۔اب کیا آپ پسند کریں گے نعوذ باللہ من ذلک آپ کے حق میں آنحضرت ﷺ کی یہ دعا قبول ہو یعنی آپ پر صادق آئے یہ مطلب ہے قبول تو خدا تعالیٰ نے فرمانی ہی ہے ان کی یہ دعا لیکن کیا آپ پسند کریں گے کہ آپ وہ ہوں جن پر یہ دعا صادق آئے۔ولا بارک لہ اور پھر اس کے کسی کام میں برکت نہ رہے۔فرمایا خبر دار ! ایسا شخص جو جمعہ کی اہمیت سے غافل ہے لاصلوۃ لہ اس کی کوئی بھی نماز نہیں ہوتی ولا زکواة له، اس کی زکوۃ بھی کوئی نہیں ولا حج له اس کا حج بھی کوئی نہیں ولا صوم له اور اس کا روزہ بھی کوئی نہیں۔اتنی اہمیت ہے جمعہ کو جو جمعہ کے دن سے غافل ہو جائے اس کی نماز میں بھی گئیں۔اس کے روزے بھی گئے اس کا حج بھی گیا اور وہ جو کہتے ہیں چلو ایک دفعہ حج کر لیں گے سب کچھ بخشا جائے گا۔اس مضمون کو بالکل رد فرما دیا ہے اس حدیث نے فرمایا اس کے روزوں کا ابھی کوئی فائدہ نہیں پھر فرمایا اس کی کوئی بھی نیکی کا م نہیں آئے گی۔نیکی کی کوئی بھی حیثیت نہیں ہے۔حتی یتوب یہاں تک کہ وہ تو بہ کرے فمن تاب تاب الله علیه خدا تو تو بہ کرنے والا ہے وہ تو منتظر ہے۔اپنے بندوں کی تو بہ کا جو بھی تم میں سے تو بہ کرے گا اللہ تعالیٰ اسے قبول فرمائے گا۔اس نصیحت کے بعد کچھ بات مزید کہنے کی گنجائش ہی باقی نہیں رہتی۔اس لئے میں امید رکھتا ہوں کہ تمام دنیا میں جماعتیں، احمد یہ جماعت کے افراد اور جماعت کے نظام جہاں جہاں بھی قائم ہیں وہ اس سال خصوصیت سے یہ کوشش کریں کہ جمعہ کے احترام کو پہلے اپنے گھروں میں قائم کریں اپنے چھوٹے بڑوں میں قائم کریں۔جمعہ کے نظام کو از سر نو زندہ اور مستحکم کرنے کے لئے قربانیاں دینے کے لئے تیار ہوں اور قربانیوں کی جہاں ضرورت پیش آئے وہاں قربانیاں دیں اور دنیا کے نظام کو بدلیں تا کہ اسلام کا نظام غالب آئے دنیا پر۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو خدا نے اس زمانہ کا امام بنایا تھا اور آپ کی امامت کی علامتوں میں سے ایک یہ علامت ہے کہ ایک آپ ہی ہیں جنہیں یہ توفیق ملی تھی کہ جمعہ کے نظام کیلئے ایک عالمگیر تحریک چلائیں۔آج آپ کے غلاموں کو ہی یہ توفیق ملنی چاہئے اور ساری امت مسلمہ پر جماعت احمدیہ کا احسان ہوگا کہ اگر ہر جگہ مسلمانوں کو ان کا یہ بنیادی دینی حق میسر آجائے کہ حکومتیں یہ تسلیم کرلیں کہ جمعہ کے دن ان کو کم سے کم اتنی رخصت ضروری ہے کہ وہ جمعہ کے فرائض سے سبکدوش ہو سکیں۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے۔آمین۔