خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 176
خطبات طاہر جلدے 176 خطبه جمعه ۱۸ / مارچ ۱۹۸۸ء اس واقعہ کے بعد جہاں تک زخمیوں کا تعلق ہے اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے غیر معمولی طور پر نصرت فرمائی اور خود وہ سر جن جن کے پاس یہ دوسرے مریض پہنچے وہ یہ کہ رہے تھے کہ اس کے بچنے کا تو کوئی امکان بھی نہیں۔اتفاق سے ان کا خون بھی۔یعنی منفی گروپ کا تھا جو بہت شاذ کے طور پر ملتا ہے لیکن قاضی احمد کے عوام کے متعلق یہ کہنا ضروری ہے کہ انہوں نے شرافت کا نہایت اعلی نمونہ دکھایا۔کثرت کے ساتھ غیر احمدی تھے جو مد دکو آئے۔وہ دین یا جیپ جس میں بھی ان کو زخمی حالت میں لے جایا گیاوہ بھی غیر احمدی دوستوں نے پیش کی۔ہسپتال تک کثرت سے وہ پہنچے اور اپنا خون دینے کی پیشکش کی اور اس کے نتیجے میں بکثرت چونکہ لوگ پہنچے ہوئے تھے اتفاق سے دو آدمیوں کا منفی O بھی نکل آیا اور کچھ دوسرے ذرائع استعمال کئے ، گلوکوز وغیرہ دئے گئے۔بہر حال وہ وقتی طور پر تو ڈاکٹر نے کہا یہ بچ گئے ہیں لیکن جگر گہری طور پر کٹ چکا تھا اور اتنے کثرت سے گہرے دار آئے تھے کہ ڈاکٹر نے کہا تھا میں نے جو ممکن ہے کر دیا ہے لیکن بچنے کی بظاہر کوئی امید نہیں۔لیکن اللہ تعالیٰ کے فضل سے جس کو خدا رکھنا چاہے اس کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا۔چنانچہ ان کی جان بھی بچ گئی اور اردگر دلوگوں کے لئے ایک حیرت انگیز معجزہ بھی تھا اور سارے جو واقف کار تھے وہ حیران تھے کہ یہ کیسے ہو گیا۔بہر حال یہ تو ان دو مظلوموں کے ساتھ گزرنے والے واقعات ہیں۔جن لوگوں نے یہ ظلم کیا وہ علاقے کے معروف لوگ ہیں۔ایک ان میں سے وہی ہیں جنہوں نے سکھر میں مظالم کا سلسلہ شروع کیا تھا اور علاقے کے بڑے مولوی اور پیر سمجھے جاتے ہیں۔اسی دن یا دوسرے دن وہ اپنے ساتھیوں کو لے کر پہنچے اور یہ رپورٹ درج کروانے کی کوشش کی کہ شخص حضرت رسول اکرم ﷺ کی شان میں بکواس کر رہاتھا۔یہ چار جو مسلمان تھے یہ برداشت نہیں کر سکے اور یہ کھر کے سکول میں پڑھنے والے اسی سکول میں جہاں سے پہلے مظالم کا سلسلہ شروع ہوا تھا یہ وہاں سے گویا کہ قاضی احمد آئے ہوئے تھے کہ جب انہوں نے دیکھا کہ اس قدر بے حیائی ہورہی ہے رسول اللہ ﷺ کی شان میں گستاخی کی جارہی ہے اکیلا آدمی دکان میں بیٹھا یہ کر رہا ہے تو انہوں نے اس پر حملہ کیا۔اس کو پکڑنے کی کوشش کی لیکن بہت سارے احمدی غنڈوں نے جو پہلے سے گویا سکیم بنا کر بیٹھے ہوئے تھے انہوں نے مزاحم ہونے والوں میں سے ایک کو قتل کر دیا، ایک کواغوا کر لیا اور دو کو پکڑ کے پولیس میں پیش کر دیا۔یہ پرچہ ہمارا لکھا جائے۔پولیس نے سارے شہر کی گواہیاں تو نہیں لیں مگر سارے شہر کی زبان سے تو پولیس واقف تھی جو اس شہر میں واقعات گزرتے ہیں کسی شہر میں واقعات گزرتے ہیں زبان زد خلائق ہوتے ہیں سب جانتے ہیں کہ کیا ہو گیا ہے۔چنانچہ اکثر پہلی رپورٹ میں پولیس اس شہرت کے بالکل مخالفانہ کوئی پر چہ نہیں لیا کرتی۔بہر حال پولیس کو خدا تعالیٰ نے اس وقت یہ ہمت دی کہ اتنے بڑے دباؤ کے باوجود انہوں نے وہ جھوٹا پرچہ درج نہیں کیا لیکن جو شخص پکڑے گئے تھے ان میں سے ایک نے خود