خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 175
خطبات طاہر جلدے 175 خطبه جمعه ۱۸ / مارچ ۱۹۸۸ء ۱۸ جنوری ۱۹۸۸ء کو اجے دن تین اشخاص ڈاکٹرنصیر احمد صاحب پڈعیدن ضلع نوابشاہ کے کلینک میں داخل ہوئے ، یہ ڈینٹسٹ تھے۔ایک ساتھی کے متعلق انہوں نے کہا کہ چونکہ اس کو دانت کی تکلیف ہے اس لئے آپ اس کے دانت کا علاج کریں۔چنانچہ انہوں نے کرسی پہ بٹھایا۔اس کے دانت کا معائنہ کر رہے تھے کہ اچانک باقی دونوں نے ان پر خنجروں سے حملہ کر دیا اور وہ اپنی کلائیوں سے روکنے کی کوشش کرتے رہے پھر ایک چھاتی پر گہر اوار کیا جس سے وہ گر پڑے تو پھر وہ تینوں یہ نعرے لگاتے ہوئے بھاگے کہ ہم نے ایک سؤر کو ماردیا ہے اور کھلے بازار میں کسی نے ان کو پکڑا نہیں کسی نے ان کو روکنے کی کوشش نہیں کی۔کوئی شخص ایسا نہیں تھا جس نے مزاحم ہونے کے بعد یا مزاحم ہوئے بغیر ہی ان کے متعلق گواہی دی ہو کہ اس قسم کے لوگ تھے۔جہاں تک اس دوسرے حصے کا تعلق ہے گواہی کا اس کے متعلق میں یقین سے ابھی نہیں کہ سکتا کیونکہ یہ مقدمہ کی شکل میں جب یہ بات ظاہر ہوگی یعنی آگے چلے گی تو اس وقت پتا چلے گا کہ اس شہر کے، اس قصبے کے ارد گرد کے گواہ اتنی ہمت اور جرات رکھتے ہیں کہ نہیں کہ وہ سچی گواہی دے سکیں۔لیکن ایک اور واقعہ اسی نوعیت کا پورے ایک ماہ کے بعد ۱۸ / فروری ۱۹۸۸ء کو بروز جمعرات شام کے بجے ہوا۔وہاں بھی ایک میڈیکل سٹور میں یہ واقعہ گزرا۔قاضی احمد نوابشاہ کے قریب ایک قصبہ ہے جہاں سے شاہراہ کراچی کی طرف جانے والی گزرتی ہے۔اس قصبے میں ہمارے ایک میڈیکل سٹور کے مالک عبدالعزیز صاحب ہیں ان کے سٹور میں اچانک چار حملہ آور داخل ہوئے۔ایک نے پیچھے سے ان کو دونوں بازوؤں کو لپیٹ کر اچھی طرح جکڑ لیا تا کہ وہ اپنا دفاع نہ کر سکیں اور تین ان پر خنجروں سے حملہ آور ہوئے۔مختلف بڑے گہرے زخم ان کو آئے لیکن وہ باہمت انسان ہیں۔جہاں تک ان سے ممکن ہو وہ کوشش کر کے ان خنجر کے وار کے جواصل نشانے تھے ان کو ٹالنے کے لئے ادھر ادھر حرکت کرتے رہے۔مثلاً اگر دل کی طرف خنجر کا حملہ ہے تو کوشش کر کے اس وقت ایک طرف ہٹ جاتے تھے تا کہ دل بچ جائے۔ایک حملہ ان کی شہ رگ پر کیا گیا۔وہ اس کو اس وقت بچانے کی خاطر وہ ایک دم آگے جھکے تو جس شخص نے ان کو پکڑا ہوا تھا وہ بھی آگے جھکا اور میں خنجر کے نشانے پر آگیا اور اس کی اپنی شہ رگ کٹ گئی۔اس عرصے میں قریب ہی ایک پکوڑے کی چھابڑی لگانے والا نو جوان تھا۔اس کے پاس اور تو کچھ نہیں تھا اس نے وہ جس سے پکوڑے بناتے ہیں، کڑ چھا کہتے ہیں اس کو غالباً پنجابی میں اردو میں میں نہیں جانتا کیا کہتے ہیں، وہ لے کر بھاگا ان کی طرف اور اس نے غالباً ایک وار بھی کیا ان پر لیکن شور سن کر کچھ اور لوگ بھی اکٹھے ہونے شروع ہوئے اور وہ اسی حالت میں چھوڑ کر بھاگ گئے۔ان میں سے ایک آدمی جس کو خنجر لگا تھا وہ تقریباً دوسو گز کے اوپر جا کر گر گیا اور وہیں اس نے جان دے دی اور دو آدمی پکڑے گئے اور تیسرا بھاگ گیا۔