خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 177
خطبات طاہر جلدے 177 خطبه جمعه ۱۸ / مارچ ۱۹۸۸ء جو پر چہ داخل کرایا وہی دوسرے بیان کی تکذیب کر رہا ہے۔اس میں اس نے یہ بیان کیا کہ ہم چار آدمی یہاں آئے تھے اس نیت سے کہ اس کو ماریں گے اور وجہ یہ تھی کہ ہمیں یہ ایسا لٹریچر دیتا تھا جس میں رسول اللہ ﷺ کی شان کی گستاخی تھی اور احمدی بنانے کی کوشش کرتا تھا۔چنانچہ ہم اس کو مارنے کی نیت سے آئے لیکن اس دوران اس کے ساتھیوں نے ہمارے ایک ساتھی کو قتل کر دیا اور ایک کو پکڑ کر کہیں لے گئے اور باقی ہم جو ہیں ہم فریاد کے لئے حاضر ہیں۔یعنی وہی مجرم جو پکڑے گئے تھے موقع پر یہ ان کی فریاد تھی۔یہ سلسلہ پاکستان میں جاری ہے۔جھوٹ اور کذب اور افترا کا۔مارشل لاء اگر ہوتا تو بعینہ اسی طرح انہوں نے یہ کیس درج کرنا تھا جس طرح پہلے کرتے رہے ہیں۔صرف فرق یہ پڑا ہے مارشل لاء کے ہٹ جانے کے نتیجے میں کہ پولیس اب اس طرح بے حیائی کے ساتھ جھوٹ درج نہیں کر سکتی جس طرح مارشل لاء کے زمانے میں فوجی حکومتوں کے کارندے کیا کرتے تھے اور یہ ایک وہاں پہلے کی نسبت اطمینان کی صورت ہے۔آگے دیکھیں یہ ان کا دباؤ کیا صورت اختیار کرتا ہے۔اس سلسلے میں ایک تو میں جماعت کو دعا کی تلقین کرنا چاہتا ہوں کہ وہاں کسی احمدی کی عزت اور جان مال کی کوئی حفاظت کی ضمانت نہیں ہے۔ایک قصبے میں خدا تعالیٰ کے فضل سے اگر شریفانہ سلوک ہوا ہے تو دوسرے قصبوں میں اسی طرح کے سلوک کی عام توقع نہیں ہے اور کسی جگہ بھی احمدی کی نہ جان کی حفاظت کی ضمانت ہے، نہ عزت کی حفاظت کی ضمانت ہے ، نہ اس کے اموال کی حفاظت کی ضمانت ہے اور اس کے علاوہ بڑی کثرت سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی ذات پر اتنا گندا چھالا جارہا ہے کہ دیواریں کالی کر دی گئی ہیں لکھلکھ کہ جھوٹا ہے، جھوٹا ہے اور کئی قسم کے مغلظات بکے جاتے ہیں جلسوں میں اور طرح طرح سے احمدیوں کی ایذاء رسانی کی جاتی ہے۔بکثرت احمدی ان حالات سے مجھے مطلع کرتے ہیں اور یہ ملک کے کونے کونے میں سلسلہ جاری ہے لیکن ساتھ یہ بھی بتاتے ہیں کہ عوام الناس اس آواز پر لبیک نہیں کہہ رہے اور جہاں تک عوام کا تعلق ہے وہ اپنے معاملات میں مگن ہو چکے ہیں۔ان کو اب اس میں دیسی کوئی نہیں رہی کہ احمدی کیا ہیں یا کیا کر رہے ہیں۔یہ جو مضمون ہے اس بات کا میں نے بڑے غور سے مطالعہ کیا ہے کہ یہ کیوں ایسا ہو رہا ہے۔یعنی عوام الناس کو کیا معلوم ہے کہ یہ مولوی جھوٹے ہیں اس لئے وہ یہ نہیں کر رہے یا کوئی اور وجہ ہے کہ وہ حرکت نہیں کر رہے۔میرا تجزیہ مجھے یہ بتاتا ہے اور یہ اطلاعات پر بنی ہے کہ اس دوران یعنی مارشل لاء کے دوران جب سے جماعت احمدیہ کی مخالفت حکومت کی طرف سے منظم طور پر کی گئی ہے کثرت کے ساتھ قوم جرائم کا شکار ہوئی ہے اور مذہب میں بالکل دلچسپی نہیں رہی۔جتنازیادہ اسلام کا ڈھنڈورا پیٹا گیا ہے اتنا ہی زیادہ عوام الناس اسلام سے پیچھے