خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 174
خطبات طاہر جلدے 174 خطبه جمعه ۱۸ / مارچ ۱۹۸۸ء روز مرہ کی جو کوششیں ممکن ہیں وہ کی جائیں۔امتثال امر میں اللہ تعالیٰ کے حکم کے تابع ہم ان ذرائع کو اختیار کرتے ہیں لیکن نہ غیر اللہ پرکوئی امید ہے نہ امید رکھنا مومن کی شان کے مطابق ہے اور نہ ہی کبھی غیر اللہ نے اللہ کے ان بندوں کی حقیقہ مدد کی ہے جو خدا کی خاطر دکھ اٹھا رہے ہوں۔خدا تعالیٰ خود اپنی تقدیر کے ذریعے مدد کے سامان مہیا فرمایا کرتا ہے اور ہم جانتے ہیں کہ ہ تقدیر مختلف صورتوں میں نازل بھی ہو رہی ہے لیکن جماعت احمدیہ پاکستان جن حالات سے گزر رہی ہے ان کے پیش نظر عموماً احمدی خدا تعالیٰ کی عقوبت کی تقدیر کا انتظار بھی کر رہے ہیں۔یعنی خدا تعالیٰ اپنے فضلوں کے ذریعے جماعت کے زخموں پر پھائے رکھتا ہے جس طرح زخموں کی مرہم پٹی کی جاتی ہے اس طرح بے انتہا فضل نازل فرما کر ہماری توجہ دکھوں سے خوشیوں کی طرف پھیرتا ہے لیکن اس کے باوجود زخم تو اپنی جگہ موجود رہتے ہیں اور ان کی کسک بھی محسوس ہوتی رہتی ہے اس لئے طبعا جماعت احمدیہ میں بہت سے دوست اس بات کے متقاضی ہیں ہمنی ہیں، راہ دیکھ رہے ہیں کہ خدا تعالیٰ کی عقوبت ظاہر ہو، اس کی پکڑ ظاہر ہو اور ان کے دکھتے ہوئے سینوں کو تسکین ملے۔اس بارے میں میں جماعت کو متنبہ کرنا چاہتا ہوں کہ یہ عقوبت کی تقدیر کی راہ دیکھنا فی ذلتہ بہت اعلیٰ درجہ کے اخلاق کا نمونہ نہیں۔خدا تعالیٰ سے خیر کی دعا مانگنی چاہئے۔اللہ تعالیٰ سے یہ دعامانگنی چاہئے کہ جھوٹے اور بچے میں کھلی کھلی تمیز کر کے دکھا دے، یوم فرقان کو جلد لے آئے۔لیکن یہ دعا مانگنا اور اس انتظار میں رہنا کہ خدا تعالیٰ کا عذاب کسی قوم کو ملیامیٹ کر دے اور انتقام کے جذبات کو دل میں اس طرح پالنا کہ گو ہم تو اب خود اپنی ذات میں انتقام لینے کے اہل نہیں مگر خدا تعالیٰ ہمارا انتقام لے۔یہ رجحان مومن کی اعلیٰ درجہ کی شان کے خلاف ہے۔گو بہت سے تاریخی واقعات سے پتا چلتا ہے کہ مومن بعض دفعہ ایسے دن کا انتظار کرتے بھی ہیں لیکن جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے حضرت اقدس محمد مصطفی ملے جو مکارم الاخلاق پہ فائز تھے یعنی جو چوٹی کے اخلاق ہیں ان کی بلندی پر سرفراز فرمائے گئے۔اس لئے ان نہایت اعلیٰ درجہ کے اخلاق کا تقاضا یہ ہے کہ ہم انتقام کے جذبات سے مغلوب نہ ہوں بلکہ جہاں تک ممکن ہے، جہاں تک کسی انسان کے بس کی بات ہے وہ خدا تعالیٰ سے عفو اور مغفرت اور رحم کی دعا مانگتا ہے۔ہاں یہ دعا ضرور کرے کہ خدا تعالیٰ یوم فرقان جلد لے آئے۔وہ دن جو کھرے اور کھوٹے میں کھلی کھلی تمیز کر کے دکھا دیتا ہے اور در اصل مومن کا دل یوم فرقان ہی سے ٹھنڈا ہو سکتا ہے۔جہاں تک اس تکذیب کا تعلق ہے اور مظالم کا تعلق ہے جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے مسلسل جاری ہیں بلکہ بعض لحاظ سے پہلے سے بھی زیادہ سفا کی بڑھتی چلی جارہی ہے۔گزشتہ دو ماہ میں بہت سے واقعات جو ہوئے ہیں ان میں سے دو واقعات جو سفا کی اور جھوٹ اور افتراءکا مرقع ہیں وہ میں آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔