خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 171
خطبات طاہر جلدے 171 خطبہ جمعہ ا ا/ مارچ ۱۹۸۸ء بچے پیدا کرتی چلی جاتی ہے۔اس لئے جماعت کو جو مجموعی طاقت کی ضرورت ہے آئندہ صدی میں اس میں غیر معمولی اضافہ ہوگا انشاء اللہ تعالی۔میں امید کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ خواہ یہ کام مشکل بھی نظر آتا ہو آسان ہو جائے گا اگر آپ دعا کر کے اس کام کو شروع کریں گے اور اس کے بہت ہی زیادہ وسیع اور پاکیزہ نیک نتائج ظاہر ہوں گے۔خطبہ ثانیہ کے دوران حضور نے فرمایا:۔نماز جمعہ کے بعد ایک نماز جنازہ غائب ہو گی۔میں نے گزشتہ جمعہ میں جس بچی عزیزہ سعدیہ کے لئے دعا کی تحریک کی تھی ساتھ ہی میں نے یہ بھی بیان کیا تھا کہ جب میں نے دعا کی تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایسا جواب ملا کہ جس کے بعد بظاہر کوئی امید کی صورت باقی نہیں تھی لیکن جو بندے کا کام ہے وہ ہمیں تب تک کرنا چاہئے جب تک آخری تقدیر نہیں ظاہر ہو جاتی اس وقت تک دعا سے غافل نہیں ہونا چاہئے۔واقعہ یہ تھا کہ عزیزہ سعدیہ میری اہلیہ کی بھتیجی اور حضرت نواب محمد عبد اللہ خان صاحب اور حضرت نواب امتہ الحفیظ بیگم صاحبہ کی نواسی تھی۔میری کزن ہیں پھوپھی زاد عزیزہ فوزیدان کی بیٹی ہے۔بالکل نو جوانی کی عمر میں وفات پائی ہے۔جب اس کی شدید بیماری کی اطلاع ملی اور میں نے دعا کی تو سونے سے پہلے ایک نظارہ سامنے آیا کہ ایک وجود ہے جس کے متعلق میں یہ نہیں جانتا کہ مرد ہے یا عورت ہے اس کی کوئی وضاحت نہیں ہے لیکن وہ تنگ جسم سے چمٹے ہوئے سرخ لباس میں ملبوس ہے اور میں اس وقت تعجب کر رہا ہوں کہ یہ Underwear جس قسم کے میں جانتا ہوں یہ سرخ تو میں نے کبھی نہیں دیکھے سفید ہوتے ہیں یا شاید کوئی اور رنگ کے لیکن یہ سرخ کیوں ہے۔تو اس وقت زبان پہ یہ شعر جاری ہوتا ہے اور اسی کیفیت کے اندر ہوش آنے کے بعد نہیں اسی کیفیت میں کہ: سرخ پوش که لب بام نظر می آید نہ بزوری نه بزاری نه بزر می آید یہ سرخ لباس میں ملبوس وجود جولب بام دکھائی دے رہا ہے یہ نہ زور سے واپس آئے گا نہ زر سے واپس آئے گا نہ زاری سے واپس آئے گا جو چاہو کر لو اس کی رخصت کا فیصلہ ہو چکا ہے۔یہی وہ شعر ہے جو حضرت میر محمد اسماعیل صاحب کو خدا تعالیٰ نے جواباً دیا تھا جب انہوں نے میری والدہ