خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 170 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 170

خطبات طاہر جلدے 170 خطبہ جمعہ ا ا/ مارچ ۱۹۸۸ء ہو جائے گا مگر بہر حال کو ئی شکل نکالنی چاہئے اب اس کی اور یہ دیکھنا چاہئے ایسا انتظام لگانا پڑے گا کہ تحریک نہ کی جائے اب مزید بلکہ وہ خطبات سنا دئے جائیں ایک دفعہ جماعت کو اور پھر اللہ تعالیٰ پر چھوڑ دیں کہ وہ خود پھر کیا اس کا نتیجہ پیدا فرماتا ہے۔آئندہ چند ماہ میں اگر آپ یہ کام کریں تو آپ دیکھیں گے کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے کس طرح خود بخودولوں سے محبتیں پھوٹیں گی اور محبتوں کے ساتھ خدا کے حضور نذرانے پیش ہوں گے۔یہ وہ لوگ ہیں جو اس وقت تک محروم ہیں۔مجھے ان کی فکر ہے۔بہت ہی عظیم الشان فوائد ہیں چندہ دینے میں یعنی خدا کی خاطر محبت کے ساتھ چندہ دینے میں اور ایسا شخص دن بدن خدا کے قریب ہوتا چلا جاتا ہے اور جانتا ہے کہ اس کا وہ مقام نہیں ہے جو پہلے تھا اس کا مرتبہ بلند ہوتا رہتا ہے۔اس فائدے سے جماعت کی ایک تعداد کو محروم رکھنا یہ بہت بڑی غفلت ہے اگر جرم نہیں تو غفلت تو کم از کم بہت بڑی ہے۔اس لئے میں امید رکھتا ہوں کہ اس بقیہ حصہ میں سال کے جوابھی اکثر باقی ہے اس کے لئے بھی باقاعدہ ٹیمیں بنائی جائیں گی تنظیم اور ترتیب کے ساتھ کام کیا جائے گا بوجھ کو تقسیم کیا جائے گا اور امیر کی نگرانی میں مجلس عاملہ مل کر ان باتوں پر غور کر کے کاموں کو تقسیم کر دے گی اور کوشش کرے گی کہ ہر شخص تک ہر تحریک خلیفہ وقت کی آواز میں پہنچ جائے یعنی آواز سے مراد یہ ہے کہ جس طرح وہ پہنچانا چاہتا ہے۔سنے والا خواہ ترجمہ بھی سن رہا ہو اس کو پتا ہو کہ یہی باتیں تھیں جو خلیفہ وقت نے جماعت کے سامنے پیش کی تھیں اور اگر کچھ کہنا ہے تو صرف یہ کہا جائے کہ اب آپ کے اوپر اکٹھا ان سب باتوں کا بوجھ مشکل ہے۔اس لئے یہ نہ سوچیں کہ آپ کتنا دے سکتے ہیں جتنا بھی دے سکتے ہیں خواہ بالکل معمولی ہو وہ دے کر ان تحریکات میں شامل ہو جائیں۔اس سے زیادہ تحریک نہ کی جائے یعنی روپیہ بڑھانے کی طرف توجہ نہ رہے بلکہ جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے چندہ دینے والوں کی تعداد بڑھانے کی طرف توجہ ہو اور یہ کام آئندہ چند ماہ کے اندر اگر ہو جائے تو آپ دیکھیں گے کہ جماعت کی خدمت کرنے والوں کی تعداد میں کتنا بڑا اضافہ ہو گا۔وہ سارے لوگ جو ان تحریکات سے متاثر ہو کر خدا کے لئے کچھ پیش کریں گے وہ اپنی جان بھی پھر پیش کرنے کے لئے تیار ہو جائیں گے۔نیکی میں یہی تو لطف ہے کہ وہ اور نیکیوں کے لئے دل بھی بڑھاتی ہے اور توفیق بھی بڑھاتی ہے اور مزید