خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 164
خطبات طاہر جلدے 164 خطبه جمعه ۱۱ مارچ ۱۹۸۸ء آواز پہنچ گئی ہے اور وہی کافی ہے۔ہرگز کافی نہیں۔انسانی فطرت ہے اس کے اندر مختلف وقت آتے ہیں کوئی مستعدی کا وقت، کوئی کمزوری کا وقت کبھی دل کسی قربانی کے لئے تیار ہوتا ہے، کبھی غفلت پیدا ہو جاتی ہے۔وعدہ کرتے وقت اور جذبات ہوتے ہیں، پورا کرتے وقت ان کو مشکلات پیش ہوتی ہیں۔پھر بھول جاتے ہیں انسان، پھر خوش فہمی میں مبتلا رہتے ہیں کہ ہم آخر پر کر لیں گے۔اس لئے بار بار کی نصیحت بہت ہی اہم ہے اور اس پہلو سے بہت سی جماعتوں میں یہ غفلت ہو چکی ہے پہلے ہی کہ صد سالہ جوبلی کے کام کو ایسی اہمیت نہیں دی گئی کہ سیکرٹری کو مقرر کیا جائے یا مقرر کیا جائے تو اس کی تربیت کی جائے اس پر نظر رکھی جائے اور باقاعدہ اس کو اگر توفیق نہیں تو اس کو کام سمجھا کر جس طرح کسی شاگر د کو سکھا کر آگے بڑھایا جاتا ہے اس طرح اس کو آگے بڑھایا جائے۔اس کے علاوہ ایک کمزوری جو نظر آئی ہے وہ یہ ہے کہ مختلف وقتوں میں جو میں نے چندوں کی تحریکات کی ہیں ان کو میری زبان میں جہاں پہنچایا جا سکتا تھا وہاں نہیں پہنچایا گیا اور ان خطبوں کو اگر ترجمہ کر کے پیش کیا جا سکتا تھا تو ترجمہ کر کے پیش نہیں کیا گیا اور بہت بڑی تعداد ایسی ہے بعض ممالک میں جنہوں نے خلیفہ وقت کی آواز میں ان تحریکات کو سنا ہی نہیں۔چنانچہ اس کے ثبوت اب اس طرح مہیا ہورہے ہیں کہ جب میں نے گزشتہ خطبہ میں تحریکات کا ذکر اکٹھا کیا اور بتایا کہ یہ بھی تحریک تھی ، یہ بھی تحریک تھی تو کثرت سے ایسے خطوط مل رہے ہیں مسلسل جس میں دوست لکھتے ہیں کہ ہمیں پتاہی نہیں تھا کہ یہ تحریک بھی تھی اور ہم تک تو نہیں آواز پہنچی پہلے لیکن ہم محروم نہیں رہنا چاہتے اس لئے باوجود اس کے کہ اب بوجھ زیادہ ہیں لیکن ہم تھوڑا سا حصہ لینا چاہتے ہیں جتنا خدا نے توفیق دی ہے وہ ہی قبول کریں۔تو اس پہلو سے یہ جو غفلت ہے یہ دوہرا جرم بن جاتی ہے۔جماعتی ضروریات تو ہیں ہی اللہ کے فضل کے ساتھ وہ پھیلتی چلی جارہی ہیں اور خدا ان کو پورا بھی کرتا چلا جارہا ہے لیکن ایک چندہ دینے والے کی اپنی ضرورت ہے وہ بہت زیادہ اہمیت رکھتی ہے کیونکہ چندہ دینے والا جب خدا کی راہ میں قربانی کرتا ہے تو اس کا روحانی معیار بلند ہوتا ہے اس کے دل میں ایسی پاکیزہ تبدیلیاں پیدا ہوتی ہیں جو اس کی روز مرہ کی زندگی پر اچھے رنگ میں اثر انداز ہوتی ہیں اور اس کی حالت تبدیل ہونے لگتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ میں بار بار اس بات پر زور دیتا رہا ہوں کہ چندے کی رقم پر اتنی نگاہ نہ کریں