خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 165 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 165

خطبات طاہر جلدے 165 خطبہ جمعہ ا ا/ مارچ ۱۹۸۸ء جتنی چندہ دینے والوں کی تعداد پر نگاہ کریں۔جتنے زیادہ احمدی آپ کسی چندے کی تحریک میں شامل کرتے ہیں اتنا زیادہ آپ احمدیوں کے روحانی معیار کو بلند کرنے میں کامیاب ہوتے چلے جائیں گے۔کثرت کے ساتھ بچوں کو ، بوڑھوں کو ، عورتوں کو مردوں کو سب کو ہر تحریک میں کچھ نہ کچھ دینے پر آمادہ کرنا چاہئے اور یہ خیال نہیں کرنا چاہئے کہ کسی میں کم توفیق ہے۔عملاً میں نے دیکھا ہے کہ بعض بڑی بڑی جماعتوں میں بھی رجحان آخری رقم کی طرف رہتا ہے۔چنانچہ بعض ممالک کہتے ہیں ہم نے چھلی دفعہ ہیں لاکھ کا وعدہ کیا تھا اب پچاس لاکھ کا کر رہے ہیں۔گویا کہ وہ کہتے ہیں اب بتاؤ اس سے زیادہ کیا چاہتے ہو۔پچاس لاکھ ہو گیا بس کافی ہے حالانکہ وہ پچاس لاکھ بعض دفعہ صرف اس جماعت کے متمول لوگوں کی قربانی ہوتی ہے اور ایک بہت بڑی تعداد غرباء کی یا نسبتا کم تو فیق رکھنے والوں کی اس قربانی سے محروم رہ جاتی ہے۔ان کی طرف ان کو خیال نہیں ہوتا۔وہ سمجھتے ہیں کہ ہم نے اتنا پیش کر دیا اب اور ہم سے کیا مانگتے ہیں حالانکہ خدا کی راہ میں قربانی کا فلسفہ یہ ہے کہ قربانی کرنے والے کا معیار بلند ہو اور اس کی تربیت ہو اور اس کا اپنے رب سے تعلق ہو۔اگر یہ فلسفہ نہ ہوتا تو خدا تو غنی ہے اس کو تو بندے کی قربانی کی کوئی احتیاج نہیں ہے۔پھر تو یہ سارا قصہ ہی ایک بہت بڑا الغوقصہ بن جائے گا کہ اللہ کو پیسے کی ضرورت ہے تم پیسے دو۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : اللہ غنی ہے۔وَأَنتُمُ الْفُقَرَآءُ (محمد (۳۹) خدا تو محتاج نہیں ہے تم فقیر ہو اس کی راہ میں۔پیسہ دینے والا کس بات کا فقیر ہوا کرتا ہے؟ جو پیسہ دے اسے آپ فقیر کیسے کہہ سکتے ہیں؟ وہ فقیر ہے اللہ تعالیٰ کے فضلوں کا ، وہ محتاج ہے اللہ تعالیٰ کی رحمت کا، اس کی محبت اور اس کے پیار کا اور قربانی کے ذریعے اور تحفے کے ذریعے حبتیں نشو ونما پاتی ہیں اور تعلقات استوار ہوتے ہیں۔انسانی زندگی میں بھی یہی فلسفہ ہے۔آپ اپنے دوست کسی محبوب کے لئے کچھ قربانی کرتے ہیں تو اس کی لذت آپ کو قربانی دینے کے ذریعے حاصل ہوتی ہے اور اس کے نتیجے میں آپ اس کے قریب جاتے ہیں اور وہ دوست جس کی خاطر آپ قربانی کرتے ہیں وہ آپ کے قریب آتا ہے۔تو قربانی دینے والا اگر محبت کے نتیجے میں قربانی دیتا ہے تو وہ ہمیشہ فقیر رہتا ہے۔اس بات کا فقیر رہتا ہے کہ جس کے لئے دی جارہی ہے وہ قبول کرے اور اگر وہ رد کر دے تو اسے صدمہ پہنچتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں ایک عظیم الشان فلسفہ قربانی کا ہمیں سمجھا دیا کہ تم جب تک