خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 163
خطبات طاہر جلدے 163 خطبہ جمعہ ۱۱ مارچ ۱۹۸۸ء قابل ادا تھا۔انہوں نے اکیس سو کود گنا کیا اور اکتالیس سوکر کے وہ وعدہ ادا کر دیا۔پھر ایک اور دوست ہیں ان کو جب تحریک کی گئی تو ان کے دلچسپ تفصیلی حالات لکھے ہیں اس کی ضرورت نہیں یعنی وہ بیان کر رہے ہیں کس طرح جماعت نے حیرت انگیز طور پر لبیک کہی ہے اور جن کے وعدے نہیں تھے انہوں نے نئے وعدے لکھائے، جنہوں نے سمجھا ہمارے وعدے تھوڑے تھے انہوں نے ان کو دگنا کیا۔ایک صاحب نے وعدہ لکھوایا اور غلطی سے دگنا چیک کاٹ دیا اور جب ان کو توجہ دلائی گئی کہ آپ نے تو اتنا وعدہ لکھوایا تھا اور آپ کو شاید تو فیق بھی نہیں اتنا ادا کرنے کی۔آپ نے غلطی سے دگنا چیک کاٹ دیا ہے۔انہوں نے کہا جو ایک دفعہ خدا کی راہ میں پیش کر دیا جائے اسے واپس کون لے سکتا ہے۔اس لئے یہی وعدہ میر سمجھا جائے اور ادائیگی پوری شمار کر لی جائے۔بڑے دلچسپ واقعات ان کی طرف سے تفصیلی موصول ہوئے ہیں جن سے پتا چلتا ہے کہ جماعت احمدیہ کو اللہ تعالیٰ نے حیرت انگیز قربانی کی توفیق عطا فرمائی ہے اور اگر کہیں کوئی جماعت پیچھے رہ گئی ہے تو اس میں جماعت کا قصور نہیں بلکہ ان منتظمین کا قصور ہے جن کا فرض تھا کہ جماعت کو بار بار یاد دہانیاں کراتے رہیں اور انتظار نہ کریں کہ بوجھ اتنا بڑھ جائے کہ پھر ان کی طاقت سے آگے نکل جائے۔چنانچہ میں نے تفصیلی طور پر جو نظر ڈالی ہے اپنے دوروں کے وقت خاص طور پر تو میں نے محسوس کیا کہ اس معاملے میں بہت سی غفلت ہوتی رہی ہے۔مثلاً بہت سے ممالک میں اور بہت سے مقامات میں امریکہ میں بھی اور افریقہ میں بھی ، سیکرٹری صد سالہ جو بلی کا تقرر ہی نہیں تھا یا اگر تھا بھی تو اس کو پتا ہی نہیں تھا کہ میرا کام کیا ہے۔وہ بیٹھا انتظار کر رہا تھا کہ ہاں! مجھے ایک عہدہ ملا ہوا ہے مجھے پتا نہیں کیا کرنا ہے اور کیسے کرنا ہے۔تو جن جماعتوں میں سیکرٹری کا تقرر ہی نہیں ہوایا اسے بتایا ہی نہیں گیا کہ کام کیسے کرنا ہے وہاں کی جماعت کیسے اس قربانی میں حصہ لے سکے گی کیونکہ قرآن کریم فرماتا ہے:۔كِرانْ نَفَعَتِ الذكرى (الاعلی :۱۰) نصیحت کر اور نصیحت کرتا چلا جا۔شدت کے ساتھ نصیحت کر کیونکہ نصیحت کے ساتھ ہی فائدہ پہنچتا ہے۔تو اگر حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کے زمانے میں نہایت اعلیٰ درجہ کے مومنوں کو بھی نصیحت کی ضرورت تھی اور خو درسول اکرم ﷺ کوضرورت تھی کہ بار بار نصیحت فرمائیں تو اس کے بعد ان کے غلاموں کو یہ کیا حق پہنچتا ہے کہ وہ سمجھ جائیں کہ ایک دفعہ