خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 99
خطبات طاہر جلدے 99 خطبه جمعه ۱۹ / فروری ۱۹۸۸ء کریں۔اگر آپ ان پر بلند آواز سے آواز میں کہیں، اگر آپ اخبارات میں ان کے بارہ میں مضامین لکھیں یہ مطالبہ کرتے ہوئے کہ ان سب کو نائیجیریا سے نکال دیا جائے تو وہ سمجھتے ہیں کہ یہ شاید حقیقی حب الوطنی ہے۔یہ غلط بات ہے۔اس نفرت کا حب الوطنی یا کسی اچھائی سے کوئی تعلق نہیں ہے اور بدقسمتی سے یہ وہی لوگ ہیں جو اپنی محنت سے کمائی ہوئی دولت کو نائیجیریا سے باہر غیر ممالک میں بھجوار ہے ہیں۔وہ سمگلنگ میں ملوث ہیں، وہ خورد برد میں ملوث ہیں اور نہیں محسوس کرتے کہ یہ حب الوطنی نہیں ہے۔اگر وہ سچے محب وطن ہوتے تو وہ کچھ مثبت کام نایجیریا کی خدمت میں کرتے۔یہ تو محض احمقانہ بین ہے۔یہ یاد رکھیں کہ بد عنوانی اور حب الوطنی ساتھ ساتھ نہیں چل سکتیں۔یادرکھیں مالی خورد برداور حب الوطنی ساتھ ساتھ نہیں چل سکتیں، یا درکھیں سمگلنگ اور حب الوطنی ایک ساتھ نہیں چل سکتی ، یا درکھیں عوامی دولت کا استعمال اور حب الوطنی اکٹھی نہیں چل سکتیں۔حب الوطنی کا مطلب یہ ہے کہ آپ اپنے ہم وطنوں اور ملک کیلئے مصروف خدمت ہوں، ملک کی دولت کی حفاظت کیلئے کھڑے ہوں نہ کہ ان کی حفاظت کیلئے جو آپ کے ملک کو لوٹتے ہیں۔پس حب الوطنی کا بگڑا ہوا یہ تصور آپ کو اس قدر شدید نقصان پہنچا رہا ہے کہ آج آپ کو اس قدر نقصان نہ کوئی غیر ملک اور نہ کوئی غیر ملکی طاقت پہنچا سکتی ہے۔اسے محسوس کریں اور بیدار ہو جائیں اور سمجھیں کہ آپ کے ملک کے ساتھ کیا ہورہا ہے۔سب سے زیادہ تو ایک نائیجیرین ہی اپنے ملک کے ساتھ ہونے والی زیادتی کا ذمہ دار ہے۔آپ نے اپنے رویوں کی کایا پلٹتے ہوئے تبدیلی لانی ہے۔اس کیلئے میں خاص طور پر احمدیوں کو ہدایت کرتا ہوں کہ وہ اٹھ کھڑے ہوں اور تمام نائیجیریا کیلئے نمونہ بنیں۔انہیں سب سے پہلے خود ایماندار بننا ہوگا۔انہیں حکومت کی مدد میں سب سے پہلے آگے آنا ہوگا ہر اس کام میں جو نائیجیریا میں معیار زندگی کو بہتر کرنے کیلئے اٹھایا جارہا ہے۔انہیں ان لوگوں کی صف میں کھڑا ہونا ہوگا جو نائیجیریا کی خدمت کیلئے کوشاں ہیں۔ان لوگوں میں ہرگز شامل نہیں ہونا جو ملک کو لوٹ رہے ہیں، مالی خورد برد کرتے ہیں اور دولت کو ملک سے باہر بھیجتے ہیں بلکہ انہیں وہ لوگ بننا ہے جو اپنے مال کی قربانی کرتے ہیں۔ان کی قوت اور طاقت اپنے ملک اور اپنے ہم وطنوں کیلئے ہونی چاہئے۔یہ وہ حقیقی حب الوطنی ہے جس کو اللہ پسند کرتا ہے اور میں امید کرتا ہوں کہ اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ اللہ 6*