خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 854 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 854

خطبات طاہر جلد ۶ 854 خطبہ جمعہ ۱۸؍ دسمبر ۱۹۸۷ء طرف اٹھاتا چلا جاتا ہے اور غفلت کی حالت میں ایسا کرتا ہے شروع میں۔شیطان اس کے لئے اس کی اس عادت کو بڑا خوبصورت کر کے دکھاتا ہے۔چنانچہ آپ اپنی زندگی کے حالات کا جائزہ لیں اپنی روز مرہ کی زندگی کے فیصلوں کا جائزہ لیں تو آپ یہ دیکھ کہ حیران ہوں گے کہ ہمارے اکثر فیصلے اپنی خواہش کی پیروی کے مطابق ہوتے ہیں۔یہ تو بظاہر ایک طبعی بات ہے ہر انسان اپنی خواہش کے مطابق فیصلے کرتا ہے لیکن جہاں ٹھوکر والا قدم اٹھایا جاتا ہے اس کا آغاز اس طرح ہوتا ہے کہ دماغ اور فیصلہ کر رہا ہے اور دل اور فیصلہ کر رہا ہے۔دماغ کے فیصلے کا انکار کیا جاتا ہے اور دل کے فیصلے کی اطاعت کی جاتی ہے۔یہ پہلا قدم ہے جو انسان کو شرک کی طرف مائل کرنے کے لئے تیار کرتا ہے اور وہ شخص دن بدن اپنے دل کی بات کا زیادہ تابع ہوتا چلا جاتا ہے اور دماغ کی بات کا منکر ہوتا چلا جاتا ہے وہ اس لائق بن جاتا ہے کہ وہ مشرک قرار دیا جائے اور رفتہ رفتہ یہی عادت پھر مذہب میں بھی دخل دیتی ہے اور خدا کے فیصلوں کے خلاف اپنے دل کے فیصلے کی بات ماننا اس کی عادت بن جاتی ہے اور یہ بات زندگی پر اس طرح سے حاوی ہو جاتی ہے کہ بہت سے اس کے فیصلے اس کے Concious دماغ میں یعنی لاشعور دماغ میں بطور فیصلوں کے ظاہر ہی نہیں ہوتے۔عادت مستمرہ کے طور پر، ایک جاری رہنے والی عادت کے طور پر وہ روز مرہ کے فیصلے کرتا چلا جاتا ہے جو خدا کے خلاف ہیں اور اس کے نفس کے تابع ہیں اور اس کو پتا بھی نہیں لگتا کہ وہ شرک کر رہا ہے اور شرک بھی بدترین قسم کا۔یہاں تک کہ اس کی عبادت میں بھی پھر وہ شرک داخل ہو جاتا ہے۔انسان کی عبادت میں جو شیطان حملے کرتا ہے قرآن کریم سے پتا چلتا ہے وہ دو قسم کے حملے ہیں یعنی موحدین کے اوپر جو حملے کرتا ہے اور ان کو مشرک بنانے کی کوشش کرتا ہے۔اول وہ حملے جو بیرونی تفکرات کے نتیجے میں پیدا ہوتے ہیں ان حملوں کا تعلق اس کے نفس کے شرک سے نہیں ہے لیکن اگر تفکرات اتنے غالب آجائیں کہ خدا کے تصور پر تفکرات کو غلبہ نصیب ہو جائے تو پھر وہ ایسے شخص کی وہ روحانی بیماری رفتہ رفتہ اسے مشرک بنادیتی ہے۔چنانچہ آپ اپنی روزمرہ کی زندگی میں اپنی زندگی میں غور کر کے دیکھیں تو آپ کو معلوم ہو گا کہ وہ لوگ جو نظرات کا شکار رہتے ہیں بسا اوقات تفکرات کا جب تجزیہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ تفکرات کسی چیز سے گہرا دل لگانے کے نتیجے میں