خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 855 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 855

خطبات طاہر جلد ۶ 855 خطبہ جمعہ ۱۸؍ دسمبر ۱۹۸۷ء پیدا ہوتے ہیں۔ہر فکر کسی پیاری چیز کے کھوئے جانے کے خیال سے پیدا ہوتا ہے اگر آپ اس فکر کو اتنا بڑھنے دیں کہ وہ آپ کے وجود پر قبضہ کرلے اور اس کے کھو جانے کے نتیجے میں اتنا صدمہ محسوس کریں اس چیز کے کھو جانے کے نتیجے میں جس کے لئے فکر تھا کہ بدحال ہو جائیں اور صبر کا دامن ہاتھ سے چھوڑ دیں تو یہ ساری حرکت توحید سے شرک کی طرف ہے۔تفکرات فی ذاتہ شرک پیدا نہیں کرتے تفکرات کا غالب آجانا شرک پیدا کرتا ہے۔چنانچہ حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کو بھی تفکرات تھے۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ تفکرات آپ جب عبادت کے لئے کھڑے ہوتے تھے تو آپ سے لپٹ جایا کرتے تھے لیکن ان تفکرات میں اور عام تفکرات میں ایک بڑا فرق تھا وہ تفکرات خدا کے دین کے تفکرات تھے۔نفس کے تفکرات نہیں تھے۔ان تفکرات کا کوئی تعلق بھی آپ کی ذات سے یا آپ کی ذات کی ایسی چیزوں سے نہیں تھا جو دین سے الگ ہوں۔چنانچہ حضرت اقدس محمد مصطفی می ﷺ کا جو یہ قول ملتا ہے کہ میرا شیطان مسلمان ہو گیا ( حوالہ حدیث ) اس کا ایک یہ مطلب بھی ہے۔تفکرات کا شیطان ہر انسان کو بہکانے کی کوشش کرتا ہے اور ہر انسان کو رفتہ رفتہ مشرک بنانے کی کوشش کرتا ہے لیکن حضرت محمد مصطفی مے کے تفکرات بھی مسلمان ہو چکے تھے وہ کلیۂ خدا کے لئے ہو گئے تھے۔ایسے شخص کے اوپر شیطان کا غلبہ ہو ہی نہیں سکتا شیطان کی نظر سے وہ شخص پاک کیا جاتا ہے عصمت انبیاء کا یہ مطلب ہے۔پس ایسے انسان بھی ہیں جو اپنے تفکرات کے ساتھ ایک جہاد کرتے ہیں اور ایک مقابلہ کرتے ہیں، تفکرات میں مبتلا ہوتے تو ہیں اور دعاؤں کے ذریعے ان تفکرات سے نجات کی خواہش بھی کرتے ہیں لیکن اپنے نفس پر ان کو غالب نہیں ہونے دیتے اور اگر یہ تفکرات دور نہ ہوں اور جس چیز کی وجہ سے تفکرات ہیں وہ کھوئی جائے تو مستغنی ہو جاتے ہیں۔اللہ تعالیٰ کی خاطر پھر وہ اس کی پرواہ نہیں کرتے لیکن وہ تفکرات جو مشرک بناتے ہیں وہ وہ ہیں جن کی جان نفس کے اندر واقع ہوتی ہے اور ان کی رگیں گہرے طور پر انسان کے نفس کی رگوں کے اندر پیوستہ ہوتی ہیں۔جس طرح ایک ناسور انسان کے جسم میں داخل ہو جاتا ہے اس کی جڑیں اس کے وجود کے اندرونی حصے پر قبضہ کر لیتی ہیں۔اسی طرح بعض تفکرات انسان کی روح کو لگ جاتے ہیں۔چنانچہ جب یہ تفکرات حقیقت بن کر اس کے سامنے ظاہر ہوں یعنی جو خطرات تھے وہ عملاً ان کے سامنے ظاہر ہو جائیں۔جس بچے کی موت کا