خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 853 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 853

خطبات طاہر جلد ۶ 853 خطبہ جمعہ ۱۸؍ دسمبر ۱۹۸۷ء اس لئے بغیر کسی وجہ کے بغیر کسی دلیل کے خدا کو حق حاصل ہے کہ جس کے چاہے کانوں پر اور دل پر مُہر لگا تار ہے اور اس کی آنکھوں پر پردے ڈال دے۔چنانچہ بعض اسلام کے دشمنوں نے اسی آیت کو اعتراض کا بھی نشانہ بنایا اور کہا کہ ایک طرف تو خدا خود مہریں لگاتا رہتا ہے یعنی قرآن کریم کا بیان کردہ خدا اور دوسری طرف پھر ان کو پکڑتا ہے اور ان کو سزا دیتا ہے یہ کیسا ظلم ہے۔چنانچہ قرآن کریم کی اس آیت نے اس مسئلے کو بھی حل فرمایا ہے فرمایا وہ لوگ جن کو یہ سزا ملتی ہے کہ تم جو چاہو کر واب وہ ہدایت نہیں پاسکیں گے یہ سزا بے وجہ نہیں ملتی یہ سزا ایک نہایت ہی خطرناک شرک میں مبتلا ہونے کے نتیجے میں ان کو دی جاتی ہے اور وہ شرک کسی بیرونی خدا کو معبود بنانے کا شرک نہیں ہے بلکہ اپنے نفس کو خدا بنا لینے کا شرک ہے اور یہ جو آخری سزا ہے یہ ہر اس شخص کو مٹا نہیں مل جاتی جو اپنی خواہشات کو خدا بنانے لگتا ہے بلکہ اس شرک کے انتہائی درجے کی یہ سزا بیان فرمائی گئی ہے۔چنانچ فرمایا أَضَلَّهُ اللهُ عَلَی عِلم ہر شخص کو جو اپنے نفس کی خواہشات کی پیروی کرتا ہے معا یہ اتنی خطرناک اور آخری سزا نہیں دی جاتی بلکہ خدا اپنے علم سے جب یہ فیصلہ کرتا ہے کہ اب یہ واقعہ اس کا خدا بن چکا ہے یہ وقتی تعلقات نہیں ہیں نفس کے ساتھ وقتی دھو کے نہیں ہیں بلکہ مستقلاً اس نے اپنے نفس کو معبود بنا لیا ہے اس وقت اس کو یہ سزا ملتی ہے اور پھر اس کے لئے ہدایت کا کوئی بھی امکان باقی نہیں رہتا۔اب یہ اتنا بڑا خطرناک شرک ہے اور اس کے باوجود ہم روز مرہ کی زندگی میں دیکھتے ہیں کہ وہ فرضی خدا جس کی سب سے زیادہ عبادت کی جاتی ہے وہ نفس ہے اور روزمرہ کی زندگی کے ہر شعبہ پر یہ شرک حاوی ہے اور ہمارے روزمرہ کے فیصلوں میں ہر فیصلے میں یہ شرک دخل دیتا ہے اور رفتہ رفتہ جس طرح بیماریاں پھیلتی ہیں اور جسم کے سارے حصے پر یہ قبضہ کرتی چلی جاتی ہیں یہ اپنی خواہش کو خدا بنا لینے کا شرک اسی طرح ایک بیماری کی طرح رفتہ رفتہ پھیلنے لگتا ہے اور جب یہ جس انسان کو گھیر لے اس وقت خدا پھر اپنے علم سے وہ فیصلہ دیتا ہے جس کا ذکر فرمایا گیا ہے کہ پھر اس پر مہر لگ جاتی ہے پھر اس کے لئے ہدایت کا کوئی امکان باقی نہیں رہتا۔چنانچہ مُہر زدہ لوگ کس طرح بنتے ہیں یہ حقیقت آپ نے دیکھ لی لیکن مُہر لگنے اور اس ظل جرم کے آغاز کے درمیان بے شمار مراحل ہیں، بے شمار قدم ہیں جو انسان توحید سے شرک کی