خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 803 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 803

خطبات طاہر جلد ۶ 803 خطبہ جمعہ ۲۷ / نومبر ۱۹۸۷ء کیا واضح حکم موجود ہے تو وہ مجلس افتاء کی طرف یا دار الافتاء کی طرف اس معاملے کو بھیجتا ہے اور جانتا ہے کہ یہ فتوے دینا قاضی کا کام بھی نہیں ہے ، قاضی کا کام صرف اتنا ہے کہ جوفتاوے موجود ہیں ان کے اندر رہتے ہوئے وہ اپنے فیصلے صادر کرے۔تو ایک مجلس عاملہ اٹھتی ہے اپنے مقام کو ایک جگہ بھی چھوڑتی ہے اور دوسری جگہ بھی چھوڑتی ہے اور جہاں افتا کی ضرورت پیش آتی ہے وہاں خود ہی مفتی بن جاتی ہے اور مفتی بن کے فیصلے صادر کر دیتی ہے اور پھر اس کے نتیجے میں فحشاء پھیلاتی ہے۔جو نقائص سمجھتی ہے چونکہ ان نقائص کی پوری چھان بین بھی نہیں ہو سکی۔ذاتی حقوق جو خاندانوں کے ہیں ان کے بعض معاملات کے پردہ پوشی کی جائے ان کے معاملات کو منظر میں نہ لایا جائے ، اس سے بھی وہ پھر روگردانی کرتے ہوئے اس بنیادی اصول سے ایک اور معاملے میں ایک اور طرف بھی رخ کرتی ہے جہاں اس کو رخ کرنے کا کوئی حق نہیں اور سارے معاشرے میں بدامنی بے چینی اور فحشاء پھیلا دیتی ہے۔ایسے کاموں کے لئے مجالس عاملہ کو مقرر ہی نہیں کیا گیا اگر اس طرح کریں گی اور جن کے متعلق جن کی حق تلفی کی جائے گی ان طریقوں پر ، جن کو ٹکراؤ کی دعوت دی جائے گی وہ آگے سے ٹکراؤ کریں گے تو سارا نظام جماعت ٹکڑے ٹکڑے ہو کر بکھر جائے گا اور اگر نہیں کریں گے تو تب بھی یہ ظالم رہے گی مجلس عاملہ جس نے ناجائز کسی فریق کے اوپر ظلم کیا اس کو کوئی حق نہیں تھا۔ایسے بعض معاملات میرے علم میں آئے تو میں نے فوری طور پر مجالس عاملہ کو معطل کیا لیکن مجھے اس موقع پر بیان کرنے کی ضرورت اس لئے پیش آئی کہ جو کمیشن مقرر کیا گیا وہ بظاہر ایسے لوگوں پر مشتمل تھا جو بڑی سمجھ بوجھ رکھتے ہیں اور اس کمیشن نے ان بنیادی باتوں کو نوٹ کئے بغیر کہ کیا ہوگیا ہے وہاں، کیا قیامت برپا ہوئی ہے، قرآن کے بنیادی اصول کو چھوڑا گیا ہے خود قاضی بننے کی کوشش کی اور یہ فیصلہ کرنے کی کوشش شروع کر دی کہ کون سا فریق ٹھیک تھا اور کون سا غلط۔چنانچہ میں نے اپنے فیصلے میں پھر مجھے یہ بھی لکھنا پڑا کہ آئندہ یہ ممبران جو ہیں کمیشن کے ان کو کم از کم ایک سال تک کے لئے کوئی تحقیقی کام نہ دیا جائے کیونکہ بنیادی طور پر یہ اہلیت ہی نہیں رکھتے۔تو مجھے یہ خیال آیا کہ اگر ایسے ممبران جو بڑے مخلص ہیں، تجربہ کار ہیں نظام جماعت میں ان کو بھی بعض باتوں کے بنیادی فرق معلوم نہیں ہیں۔اس لئے ضروری ہے کہ ساری جماعت کو مخاطب کرتے ہوئے یہ معاملات ان