خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 802 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 802

خطبات طاہر جلد ۶ 802 خطبہ جمعہ ۲۷ / نومبر ۱۹۸۷ء غلطی کی اس کی غلطی متعلقہ افسران تک پہنچائی جاتی ہے وہ اس کو درست کر لیتے ہیں اور کوئی ٹکراؤ کی صورت نہیں پیدا ہوتی لیکن اگر ایک طرف سے بھی غلطی ہو رہی ہو دوسری طرف سے بھی غلطی ہو رہی ہو تو پھر یہ تفاوت بن جاتا ہے اور اس کے نتیجے میں لازما فتور پیدا ہوتا ہے۔اس لئے یک طرفہ غلطی بھی بری چیز ہے اس کے نتیجے میں بھی نقصان پہنچ سکتے ہیں لیکن نظام تباہ نہیں ہوا کرتے اگر ٹکراؤ والی غلطی پیدا ہو جائے تو نظام تباہ ہو جایا کرتے ہیں۔مشین کے کل پر زورں پر آپ غور کریں دوبارہ ایک پرزہ اپنی ذات میں خراب ہو جاتا ہے موٹر کو اس سے بھی نقصان پہنچتا ہے لیکن ایک پرزہ دوسرے پرزے کی راہ میں اٹکتا ہے اس کا نقصان اس سے بہت زیادہ شدید نوعیت کا ہوتا ہے، اس سے دھما کہ پیدا ہوتا ہے، اس سے تصادم پیدا ہوتا ہے۔اس لئے تفاوت کے مضمون کو پیش نظر رکھتے ہوئے پہلی نصیحت تو میری یہ ہے کہ اپنے مدار کو بہر حال نہ چھوڑیں اگر آپ اپنے مدار کو چھوڑیں گے تو بڑا بھاری احتمال موجود ہے، چونکہ عوام الناس اکثر ان مضامین کو نہیں سمجھتے اس لئے آپ کے چھوڑنے کے نتیجے میں کوئی دوسرا بھی اپنے مدار کو چھوڑ دے گا اور جب وہ اپنے منصب سے ہٹ کر آپ سے ٹکرائے گا تو اس کے نتیجے میں آپ دونوں کی بھی ہلاکت ہے اور نظام جماعت کو بھی شدید نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے۔پہلی مثال کی طرف واپس آتے ہوئے مزید میں اس پر روشنی ڈالتا ہوں۔میاں بیوی کا جھگڑا ہوتا ہے مجلس عاملہ اس کے اوپر بیٹھ جاتی ہے غور کرنے اور خود ہی فیصلے کرتی ہے اور فیصلے صرف اس لحاظ سے نہیں کہ وہ نجی جھگڑے سے متعلق فیصلے ہوں کہ ان کو کیسے سلجھایا جائے۔افتاء کا اختیار بھی اپنے ہاتھ میں لے لیتی ہے۔یکطرفہ باتیں سنتی ہے پھر ایک فریق کو موقع دیئے بغیر قضاء کا کام اس طرح کرتی ہے کہ قضاء کے بھی منافی ہے وہ یعنی قضاء کے ادنی تقاضے بھی پورے نہیں کرتی۔دوسرے فریق کو بلاتی ہی نہیں ہے، ان کو پوری طرح موقع ہی نہیں دیتی حالانکہ اس کو اول تو اس طرح قاضی بننے کا حق ہی کوئی نہیں بنیادی طور پر۔قاضی بن جاتی ہے مجلس عاملہ قاضی پھر ٹیڑھا اور لنگڑا کیونکہ قاضی بنانے کے لئے مقرر نہیں کیا گیا اس لئے وہ صلاحیتیں ہی موجود نہیں ہے اس میں جو قاضی میں ہونی چاہئیں۔پھر اسی پر اکتفا نہیں کرتی۔قضاء کے دوران بہت سے ایسے معاملات ہیں جن میں فتوے چاہئیں اور ایک متقی قاضی خدا کا خوف رکھنے والا جب کسی معاملے میں نہیں جانتا کہ قرآن کا یا سنت کا