خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 804
خطبات طاہر جلد ۶ 804 خطبہ جمعہ ۲۷ نومبر ۱۹۸۷ء کے سامنے لائے جائیں تا کہ قرآن کریم کی اس آیت کو نظر انداز کرتے ہوئے کسی قسم کے تصادم کی صورت بھی جماعت احمدیہ میں پیدا نہ ہو اور مجھے تعجب ہے کہ کس طرح اب تک یہ بات میری نظر سے اوجھل رہی کہ ہماری مجالس عاملہ کو بھی بہت بڑی تربیت کی ضرورت ہے۔اس سلسلے میں بعض اور اقدامات میں کروں گا انشاء اللہ تعالیٰ حسب توفیق ان پر میں غور کر رہا ہوں لیکن سردست ساری جماعت کی تربیت کی ضرورت ہے ان کو بتانا چاہئے کہ رخنے کس طرح پیدا ہوتے ہیں کسی ایک قرآنی تعلیم کو نظر انداز کرنے کے نتیجے میں فساد پیدا ہوتا ہے۔چنانچہ دوسری مثال آپ کے سامنے میں یہ رکھتا ہوں کہ ایک جگہ ایک لجنہ کا اجلاس ہو رہا ہے اور بڑی اہم تقریب ہے سارے ملک سے ممبرات آئیں ہوئی ہیں اس لئے کہ ان کی تربیت کی جائے اور جب ان کی اپنی تربیت کا امتحان ہوتا ہے تو قطعاً سارے تربیت کے تقاضے، پرانی تعلیمات کو بھلا کر تصادم کی راہ اختیار کر لیتی ہیں یعنی نظام جماعت سے تصادم کی راہ۔ایک ایسے ہی موقع پر ایک جگہ ایک لڑکی روتی ہوئی واویلہ کرتی ہوئی بلند آواز میں اپنے خاوند کے خلاف اور اس کے رشتہ داروں کے متعلق باتیں کرتی ہوئی لجنہ کی تقریب میں پہنچ جاتی ہے وہ کہتی ہے آپ کے قریب ہی فلاں خاوند نے مجھ پر ظلم کیا، مجھے یہ کیا مجھے وہ کیا۔زود کوب کیا۔اس کے والدین نے ہمیں یہ کیا اور یہ مضامین کئے اس نے میرے والدین کو یہ کہا۔نظام جماعت کا تقاضا یہ ہے کہ لجنہ اماء اللہ کی عہد یدار فوراً اس کی زبان بندی کریں۔ان سے کہیں ہوسکتا ہے تم مظلوم ہولیکن ہم اس مقام پر فائز نہیں ہیں کہ تمہارے ظلم کی یک طرفہ داستان سنیں۔اوّل تو یک طرفہ داستان سننا ہی انصاف کے تقاضے کے خلاف ہے اور اگر کوئی سنا دیتا ہے سرسری طور پر یا مثلاً بعض خطوں میں میرے سامنے آجاتی ہے تو پھر سنے والے کا جو سرسری طور پر سن لیتا ہے یا گزرتے ہوئے اس کے کان میں پڑ جاتی ہے یہ بنیادی فرض ہے کہ یک طرفہ رائے سن کر کوئی نتیجہ اپنے ذہن میں قائم نہ کرے، کوئی بداثر قائم نہ کرے لیکن ایک نہیں دو نہیں بار بار وہ منتظمین جولوگوں کی تربیت کے لئے ایک تقریب منعقد کر رہے ہیں وہ عہدیداران یہ رد عمل دکھاتی ہیں کہ نہ وہ قاضی ، نہ ان کو یہ حق کہ ان معاملات میں فیصلہ کریں بجائے اس کے اس فریق کو جو اپنے منصب سے ہٹ کے ان کے پاس آیا تھا، اپنے دائرہ اختیار سے ہٹ کر ان کے پاس آیا تھا اس کو سمجھاتے کہ بلند آواز سے فحشاء کا ذکر کرنا جائز نہیں