خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 792
خطبات طاہر جلد ۶ 792 خطبہ جمعہ ۲۰ / نومبر ۱۹۸۷ء پر ذوالقرنین ہیں اور آپ ایک پرانے زمانے کو یعنی جاہلیت کے زمانے کو جبکہ دنیا کی اکثریت اسلام سے غافل تھی ایک نئے زمانے سے ملانے والے ہیں جب کہ دنیا کی اکثریت اسلام قبول کرنے والی ہے۔آپ کو اس کام کے لئے چنا گیا ہے آپ کو اس سنگم پر پیدا کر دیا گیا ہے جہاں یہ دوصدیاں ملنے والی ہیں ایک وہ صدی جسے اگلی صدی کا انسان پرانے زمانے کی صدی شمار کرے گا جبکہ دنیا کہ اکثریت اسلام سے غافل تھی۔ایک وہ صدی جس میں اللہ تعالیٰ آپ کو توفیق دے گا اور آپ کی نسلوں کو توفیق دے گا کہ صدی ختم ہونے سے پہلے اسلام غالب آجائے۔پس ان سب باتوں پر نگاہ رکھیں اپنی خوش نصیبی پر ناز کریں اور اس خوش نصیبی سے فائدہ اٹھا ئیں۔اگر ہمت نہیں ہے خواہش ہے تو دعا کریں تو ہمت بھی پیدا ہو جائے گی بہر حال اب وقت ضائع کرنے کا نہیں ہے ہم میں سے ہر ایک کو دعوت الی اللہ کے کام میں مصروف ہو جانا چاہئے۔خطبہ ثانیہ کے دوران حضور نے فرمایا:۔آج خطبے سے پہلے چند مرحومین کی فہرست آپ کو پڑھ کر سنائی گئی ہو گی جن کی نماز جنازہ غائب مجھے آج جمعہ اور عصر کی نماز کے معا بعد ادا کرنی ہے یعنی آپ نے اور ہم نے مل کر۔چونکہ میں سفر پہ رہا ہوں اس لئے بہت سی ڈاک ایسی تھی جو یہاں پڑی رہی ، وقت پر نہیں مل سکی ایک لمبی فہرست بن گئی تھی اس لئے میں نے کہا تھا کہ پہلے ہی آپ کو ان کے ناموں سے آگاہ کر دیا جائے۔ان میں تین نام ایسے ہیں جو ایک قسم کی شہادت کا رنگ رکھتے ہیں۔شہادت ایک تو مذہبی شہادت ہے خالصہ وہ تو بالکل اور مضمون ہے لیکن حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ نے اچانک حادثوں میں جاں بحق ہونے والوں کے لئے بھی شہید کا لفظ استعمال فرمایا ہے اور اور بھی بعض لوگوں کے لئے ڈوب کر مرنے والے وہ بھی حادثاتی موت ہی ہے ایک قسم کی۔تو اس لئے شہادت کی ایک تعریف کی رُو سے تین ایسے ہمارے مرحوم ہیں جو شہید کہلا سکتے ہیں اس دوسری تعریف کی رُو سے۔ان میں ایک مکرم مولوی احمد علی صاحب ہیں اہل حدیث مسجد کے امام تھے اور چند سال پہلے اللہ تعالیٰ کے فضل سے ان کو خدا تعالیٰ نے توفیق دی اور اپنی امامت کو چھوڑ کر بڑی جرأت اور بہادری سے احمدیت کو قبول کیا اور بڑی ثابت قدمی اور وفا سے قائم رہے۔یہ بس کے ایک حادثے میں شہید ہو گئے ہیں یعنی شہید ان معنوں میں جن معنوں میں میں نے بتایا ہے کہ ایک دوسری تعریف شہادت کی