خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 718
خطبات طاہر جلد ۶ 718 خطبه جمعه ۳۰/اکتوبر ۱۹۸۷ء Emphiasize کر دیتے ہیں یعنی زیادہ بڑھا کر بیان کرتے ہیں، بڑھا کر واقعات کا نہیں بلکہ نمایاں رنگ میں میں کہنا چاہتا ہوں تا کہ میری نظر اس پر پڑے اور میرا دل خوش ہو اور ان کی نیت نیک ہوتی ہے تاکہ ان کے لئے دعا دل سے نکلے کہ بہت اچھا کام کر رہے ہیں۔جو پہلو تشنہ رہ گئے ہوں ان کا ذکر ہی نہیں کرتے تا کہ دماغ میں یہ خیال ہی نہ جائے کہ کوئی خلاء ہے اور وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ کس طرح میری نظر سے ان کی کوئی بات بھی اوجھل نہیں ہوسکتی کیونکہ اللہ تعالیٰ نے مجھے مزاج ہی ایسا عطا فرمایا ہوا ہے کہ میں سارے پہلوؤں پر نظر ڈال کر رپورٹ دیکھتا ہوں اگر بعض پہلوؤں کا ذکر نہ ہو تو مجھے یقین ہو جاتا ہے کہ اس پہلو میں کام ہی نہیں ہو اور نہ وہ ذکر کرتے اور میں نے نصیحت کی تھی گزشتہ سال بھی کہ آپ اپنے ہاتھ سے لکھ دیا کریں کہ ہم نے اس معاملے میں اب تک کوئی کام نہیں کیا۔اس میں برکت ہے۔یہ قول سدید ہے۔اس سے آپ کو ایک کام کی طرف بار بار توجہ پیدا ہوگی اور وہ خلاء بھرنا شروع ہو جائے گا۔جب آپ اپنی کمزوری چھپانے کے لئے ایک جگہ سے چھلانگ لگا کر دوسری جگہ پہنچتے ہیں اور بیچ میں ایک خلاء پیدا کر دیتے ہیں تو جو مقصد ہے وہ تو پورا نہیں ہوا نہ مجھے دھوکہ دیا جا سکانہ خدا کو کوئی دے سکتا ہے۔تو بے مقصد ایسی غلطی کر رہے ہیں جس کا آپ کو اپنا نقصان ہے۔آپ اگر یہ لکھتے اور آگے جا کر مجھے Brief کرنا پڑے گا ، بیچ میں خلاء آرہا ہے تو ہم بدقسمتی سے اس خلاء کو پر نہیں کر سکے۔ہر رپورٹ میں اگر یہ لکھا جائے تو انسانی ضمیر آخر کچوکے دیتا ہے، توجہ دلاتا ہے پھر انسان کوشش کرتا ہے کہ اس خلاء کو کسی رنگ میں پُر کرے اور اس کے نتیجے میں ترقی ہوتی ہے تبھی خدا تعالیٰ نے فلاح کی راہ یہی بتائی ہے کہ قول سدید اختیار کرو۔تو میں جماعتوں سے یہ بھی توقع رکھتا ہوں کہ جو تحریک جدید کے ٹارگٹ مقرر کئے جاتے ہیں ان میں اگر وہ بدقسمتی سے کسی پہلو سے پیچھے بھی رہ جائیں تو خواہ مخواہ اس کو چھپانے کی کوشش نہ کیا کریں۔جرات کے ساتھ صاف لکھا کریں اس کے نتیجے میں بھی تو دعا پیدا ہوتی ہے یہ بات بھول جاتے ہیں۔وہ سمجھتے ہیں کہ صرف اچھے کاموں کے نتیجے میں دعا نکلتی ہے اور پڑھتا ہوں اور دل خوش ہو جاتا ہے حالانکہ جو کمزور کام ہیں ان پر بعض دفعہ زیادہ دردناک دعا نکلتی ہے۔اس بارے میں بھی خدا ان کو تو فیق عطا کر دے۔اس بارے میں بھی اللہ تعالیٰ ان کی ہمتیں بڑھائے ان کو توفیق اور نصرت عطا فرمائے اور بعض دفعہ کمزوری دیکھ کر زیادہ دردمند دعا اٹھتی ہے۔اس لئے دعا تو دونوں صورتوں میں ملنی ہے جب آپ خلاء پیدا کریں گے