خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 717 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 717

خطبات طاہر جلد ۶ 717 خطبه جمعه ۳۰/اکتوبر ۱۹۸۷ء سے میں نے گزشتہ سال بھی بہت زور دیا تھا کہ محض وعدوں کو بڑھا کر پیش کرنے سے تسلی نہ پایا کریں خوشی کی بات ہے ایک دوسرے سے بے شک مقابلہ کریں جتنا مقابلہ کریں اچھا ہے کبھی امریکہ آگے بڑھا کبھی کینیڈا آگے بڑھا۔اور کبھی انگلستان آگے بڑھا۔یہ مقابلہ برانہیں ہے کیونکہ ہمارے اسلام مسلمانوں کی تعمیر کا مقصد یہ ہے کیونکہ مسلمانوں کے بنائے جانے کا مقصد یہ ہے فَاسْتَبِقُوا الْخَيْرَاتِ (البقرہ:۱۴۹) ایک دوسرے سے نیکیوں میں مقابلہ کرو اور آگے بڑھو۔مگر اس سے بڑھ کر ضروری یہ ہے کہ یہ مقابلہ کریں کہ آپ کے ملک میں جتنے افراد جماعت ہیں وہ کتنی جلدی سارے کے سارے تحریک جدید کے چندے میں شامل ہو چکے ہیں اور یہ جو مقابلہ ہے کہ سو فیصد احباب جماعت کو مردوں عورتوں اور بچوں کو تحریک کے چندے میں شامل کر دیا جائے یہ بہت ہی عظیم مقابلہ ہے اور اس کے لئے آپ ایسے تردد کی ضرورت نہیں کہ غریب آدمی تھوڑی دے سکتا ہے تو آپ کہیں کہ اس سے فرق کیا پڑے گا بعض دفعہ کھاتہ رکھنے میں زیادہ مشکل پڑتی ہے بنسبت اس شخص کے چندے کی آمد کی حیثیت کے لحاظ سے مگر اس کا کوئی فرق نہیں پڑتا۔ہاں ایک احمدی اگر ایسا نیا شامل کریں جو پہلے کچھ نہیں دیتا تھا اگر وہ نصف ڈالر بھی دے تو تب بھی خدا تعالیٰ اس کو ایسی نیکی کی توفیق بخشے گا جس کے نتیجے میں نیکیاں پھر ترقی کریں گی اور وہ پھر اپنے اندر ایک عظمت کر دار محسوس کرے گا۔تو روپیہ دینے والا روپے سے زیادہ اہم ہے اور اس کی تربیت بہت زیادہ اہم ہے کیونکہ روپے دینے کے مقاصد میں انسانی تربیت شامل ہے۔اس لئے محض اس بات پر تسلی نہ پایا کریں کہ آپ میں سے امیر بڑے بڑے چندے دے کر ملک کے عمومی بجٹ کو بڑھا رہے ہیں بلکہ یہ دیکھا کریں کہ کتنے غریب یا دل کے غریب ایسے ہیں جو تو فیق ہونے کے باوجود اس چندے میں شامل نہیں ہو سکے ان کی تعداد بڑھانے کی طرف توجہ کریں۔اس سے آپ کو نیک آدمیوں کی تعداد میں اضافہ کرنے کا موقع ملے گا کیونکہ چندہ دینے والوں میں نیکی پیدا ہوتی ہے اور جماعت کا انحصار نیکی پر ہے۔اگر ہم زیادہ نیک آدمی بنا سکتے ہیں تو اتنی ہی زیادہ جماعت ترقی کرے گی۔اس پہلو سے اب اپنے کمزوروں پر رحم کریں اور ان کے لئے باقاعدہ سارا سال کوشش کرتے رہا کریں کہ ان کی تعداد میں اضافہ ہو۔یہ رپورٹ مجھے نہیں ملتی اور اس سے مجھے اندازہ ہو جاتا ہے کہ اس پہلو سے سقم ہے کیونکہ جماعتوں میں رپورٹ بھیجنے کا رجحان یہ ہوتا ہے کہ جس چیز میں وہ کوئی قابل فخر کام کریں اس کو اور Over