خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 716 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 716

خطبات طاہر جلد ۶ 716 خطبه جمعه ۳۰/اکتوبر ۱۹۸۷ء بڑھ کر 194,39,000 روپے ہو چکا تھا۔عمومی وصولی کا جہاں تک تعلق ہے گزشتہ سال اگر چہ سال کے آخر تک خدا تعالیٰ کے فضل سے تمام وعدہ پورا ہو چکا تھا لیکن اس وقت تک 72,4,380 روپے کی وصولی ہوئی۔یعنی کل وعدہ 156,00,000 روپے کے مقابل پر آج کی تاریخ تک 72,00,000 روپے وصولی تھی گویا کے نصف سے کم تھی لیکن بقیہ مہینوں میں خدا کے فضل سے وہ وصولی پوری ہوگئی اور کوئی بقایا نہ رہا امسال 194,00,000 روپے کے وعدوں کے مقابل پر وصولی 94,61,000 روپے ہے یعنی تقریباً نصف اور جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے ابھی سال کے کچھ مہینے باقی ہیں اور عموماً یہ رجحان پایا جاتا ہے کہ آخری مہینوں میں تیزی کے ساتھ ادائیگی کی جاتی ہے۔دوسرے یہ جو رپورٹ چلی تھی پاکستان سے اس کو چلے کافی وقت گزر چکا ہے۔اس عرصے میں انگلستان نے اپنی وصولی کی مکمل ادا ئیگی کروادی ہے اور باقی ملکوں میں بھی کافی محنت کی ہے اس عرصہ میں میں اُمید کرتا ہوں کہ ابھی وصولی بڑھ چکی ہوگی۔جہاں تک کل تعداد چندہ دینے والوں کی ہے اس لحاظ سے ابھی بہت کام کی گنجائش ہے خصوصاً پاکستان سے باہر۔اگر چہ پاکستان کے باہر کا چندہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے بہت اچھا ہے اور خوشکن ہے لیکن وہ مجاہدین جو چندوں میں حصہ لے رہے ہیں تحریک جدید کے چندوں میں میری مراد ہے ان کی تعداد بھی پاکستان کی تعداد سے بہت ہی پیچھے ہے۔پاکستان میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے ستر ہزار سے زائد مجاہدین ہیں جو تحریک جدید میں شامل ہو گئے ہیں اور بیرون پاکستان صرف اٹھارہ ہزار ایک سو پچاس اور یہ تعداد بہت ہی قابل فکر ہے میں نے گزشتہ سال بھی یہ بات کہی تھی اور اب پھر اس کی یاد دہانی کرانا چاہتا ہوں کہ اموال تو خدا تعالیٰ مہیا ضرور کرتا ہے اور ہمارا تجربہ ہے۔کوئی جماعت کے کام پیسے کی کمی کی وجہ سے پیچھے نہیں رہے لیکن چندہ دینے والا بہت ہی زیادہ اہمیت رکھتا ہے ہمیں اس کی طرف توجہ کرنی چاہئے جو شخص چندہ دینا شروع کر دے اس کے اندر اللہ تعالیٰ بہت سی پاک تبدیلیاں پیدا کرتا ہے اور اسے ایک نئی زندگی ودیعت ہوتی ہے نئی زندگی اللہ کی طرف سے عطا ہوتی ہے تو ہمیں ایسے لوگوں کی تعداد میں اضافہ کرنا چاہئے جن کو چندہ دینے کا مزہ آنا شروع ہو جائے جن کو معلوم ہو کہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنا کتنا عظیم کام ہے کتنی عظیم سعادت ہے اس پہلو