خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 690 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 690

خطبات طاہر جلد ۶ 690 خطبه جمعه ۲۳/اکتوبر ۱۹۸۷ء دیکھیں کس طرف ہیں؟ کن باتوں سے آپ کو خوشیاں ہوتی ہیں؟ کن باتوں سے دل لذتوں سے بھر جاتے ہیں؟ اگر وہ دنیا کی تعلیمات ہیں جو بچے آپ کو بتاتے ہیں کہ ہم نے اس طرح حاصل کر لیں ، اتنے بڑے کارنامے حاصل کئے ، خاص جو غیر معمولی ذہین گروپ ہیں ان میں ہم داخل ہو گئے اور ان کی انگریزی سن کر آپ مرعوب ہو جاتے ہیں ، ان کے اچھے نمبر دیکھ کر آپ مرعوب ہو جاتے ہیں اور کبھی آپ کو خیال نہیں آتا کہ بچپن سے ان کے اندر دین کی محبت پیدا نہیں ہوسکی، قرآن کریم کی تلاوت اچھی نہیں کرتے ، آنحضرت ﷺ کی پیار کی باتیں نہیں کرتے۔اگر ان کے اندر بچپن ہی سے دین کی محبت کا جذبہ پیدا نہیں ہوا اور آپ فکر مند نہیں ہوتے ، غیر معمولی طور پر آپ غمگین نہیں ہو جاتے ، اداس نہیں ہو جاتے ، بے چین نہیں ہوتے ، اس بات کو محسوس کر کے شروع ہی سے دعا ئیں نہیں کرتے تو پھر آپ کے اندر خلا ہیں اور یہ خلا ایسے ہیں جن کو بدیوں نے بہر حال بھرنا ہے کیونکہ قانون قدرت ہے کہ کوئی جگہ خالی نہیں رہ سکتی۔وہی خلا ہیں جو بچوں میں بڑے ہو جایا کرتے ہیں۔بعض اوقات انسان کو اپنے خلا دکھائی نہیں دیتے لیکن بچے کے آئینے میں وہ خلا دکھائی دینے لگتے ہیں۔بچہ ماں باپ کی تصویر بنا رہا ہوتا ہے اور ماں باپ یہ سمجھتے ہیں کہ یہ بچے کی شکلیں ہیں جو ہم دیکھ رہے ہیں۔ماں باپ کا اندرونہ بچوں میں منعکس ہو رہا ہوتا ہے۔ضروری نہیں کہ ہر حالت میں ایسا ہومگر میں دنیا کے عمومی قوانین بتا رہا ہوں۔عام طور پر قومی تاریخیں اس طرح بنتی اور بگڑا کرتی ہیں۔چنانچہ قرآن کریم نے ایک اور جگہ واضح طور پر یہ بیان فرمایا کہ وہ لوگ جو خدا کو یاد کرتے ہیں اور خدا کو یادرکھتے ہیں وہ نہیں بگڑا کرتے ، ان کی اولادیں بگڑا کرتی ہیں جو آہستہ آہستہ خدا کو یاد کرنا چھوڑ دیتے ہیں لیکن ان کو پتا نہیں لگتا۔اولا د کو خطرہ ہوتا ہے اولاد میں جا کر وہ تصویر نمایاں ہو جاتی ہے۔چنانچہ جو خدا کو یا درکھنے والے ہیں ان پر تو غیر غالب نہیں آسکتا۔جو خدا کو یا در کھنے کا دعویٰ رکھتے ہیں ان میں بھی بسا اوقات برائیاں نمایاں طور پر دکھائی نہیں دیتیں لیکن ان کی اگلی نسل اس پول کو کھول دیتی ہے اور ان کی کمزوریوں کے راز طشت از بام ہو جاتے۔چنانچہ قرآن کریم فرماتا ہے:۔يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَلَتَنْظُرْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ لِغَدٍ وَاتَّقُوا الله اِنَّ اللهَ خَبِيرٌ بِمَا تَعْمَلُونَ وَلَا تَكُونُوا كَالَّذِينَ نَسُوا اللَّهَ فَأَنْسُهُمْ أَنْفُسَهُمْ أُولَبِكَ هُمُ الْفَسِقُونَ ) (الحشر : ۲۰۱۹)